شہر حیدرآباد میں ہلکی اور تیز بارش، جی ایچ ایم سی چوکس

   

متعدد مقامات پر پانی جمع ہونے کی شکایت، کمشنر بلدیہ کی عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد۔یکم‘ستمبر(سیاست نیوز) شہر میں ہلکی اور تیز بارش نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو چوکس کیا ہوا ہے لیکن ا س کے باجود بھی شہر حیدرآباد میں کئی مقامات پر پانی جمع ہونے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں جو کہ جی ایچ ایم سی کیلئے پریشانی کا باعث بنتی جا رہی ہیں کیونکہ دونوں شہروں میں گنیش تہوار کی شروعات ہونے والی ہے اور شہر میں بارش کے پانی کے جمع ہونے کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر لوکیش کمار نے اپنے ماتحت عہدیدارو ںکو شہر کی اہم سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے روکنے کے اقدامات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی مصروف ترین سڑکوں پر کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہونے نہ دی جائے اور فوری ہنگامی خدمات کے ذریعہ پانی کی نکاسی عمل میں لائی جائے ۔ انہوں نے جی ایچ ایم سی کے شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے عہدیدارو ںکو ہدایت دی کہ وہ نشیبی علاقوں کے قریب اپنی ٹیموں کو ہمہ وقت تعینات رکھنے کے اقدامات کریں کیونکہ شدید بارش کے ساتھ ہی پانی کی نکاسی کے عمل کو تیز کیاجاسکے ۔دونوں شہروں کی مصروف سڑکوں پر آج اتوار ہونے کے باوجود بھی ٹریفک جام کا عوام کو سامنا کرنا پڑا دوپہر کے ساتھ ہی شہر کے بیشتر علاقوں میں بارش شروع ہوگئی اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے سبب شہریوں کو مشکلات پیش آرہی تھیں۔بتایاجاتا ہے کہ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر لوکیش کمار نے اپنے ماتحتین کو شہر کے تمام زونس کیموجودہ صورتحال اور ان زونس میں پانی جمع ہونے کے مقامات کی تفصیل پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور کہا کہ ان مقامات پر پانی جمع ہونے کی وجوہات پر مشتمل مکمل تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ان مسائل کے مستقل حل کی منصوبہ بندی کی جاسکے ۔ انہوں نے بارش کے سبب سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں کو فوری بند کرنے کے اقدامات کی بھی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں سڑکوں پر گڑھوں کے سبب بھی ٹریفک کے کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں اور ان مسائل کے حل کیلئے لازمی ہے کہ گڑھوں کو بند کرنے کے سلسلہ میں فوری کاروائی کی جائے تاکہ ٹریفک کے بہاؤ کو آسان بنانے کے علاوہ شہر میں حادثات پر روک تھام کو یقینی بنایاجائے۔مسٹر لوکیش کمار کی جانب سے آئندہ دو یوم کے دوران شہر کے مختلف علاقو ںکا دورہ کرتے ہوئے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے علاوہ دیگر مسائل کا جائزہ لئے جانے کا امکان ہے اور اس سلسلہ میں عہدیدارو ں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔