شہر میں رئیل اسٹیٹ کاروبار عروج پر ‘ 40 پراجکٹس کیلئے درخواستیں

   

حیدرآباد: کورونا کے نتیجہ میں ریاست میں رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا لیکن شہر میں کورونا اور لاک ڈاون کا رئیل اسٹیٹ پر خاص اثر نہیں پڑا ہے ۔ حیدرآباد میں اپریل اور مئی کے دوران 40 بڑے رہائشی پراجکٹس اور ہمہ منزلہ عمارتوں کی منظوری کیلئے درخواستیں داخل کی گئیں ۔ بلڈرس نے ماحولیاتی منظوری کیلئے اسسمنٹ اتھاریٹی کو درخواست داخل کی ہے ۔ اندازہ کے مطابق شہر میں 10976 کروڑ مالیتی پراجکٹس کے لئے درخواستیں داخل کی گئی ہیں، ان میں رہائشی ، کمرشیل اور فارما انڈسٹریز شامل ہیں۔ زیادہ تر ہمہ منزلہ عمارتوںکی مالیت 50 تا 500 کروڑ بتائی گئی جن میں بعض ٹاورس شامل ہیں۔ اپریل ۔ مئی میں پراجکٹس کی منظوری کیلئے کمیٹی کا 8 مرتبہ اجلاس ہوا جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شہر میں رئیل اسٹیٹ تجارت کس طرح عروج پر ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں کورونا سے خاص اثر نہیں پڑا ۔ تاہم وہ کنسٹرکشن ورکرس کی کمی سے پریشان ہیں۔