Sunday , November 29 2020

شہر میں سیلاب کی امدادکی تقسیم میں بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیاں

حقیقی متاثر محروم ، مقامی جماعت کے حامیوں میں امداد کی تقسیم، ڈپٹی کمشنر بلدیہ سے شکایت
حیدرآباد: شہر کے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حکومت کی امداد کی تقسیم میں بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیوں کی شکایات ملی ہیں ۔ حکومت نے متاثرہ خاندان کیلئے فی کس 10 ہزار روپئے امداد کا اعلان کیا ہے لیکن برسر اقتدار ٹی آر ایس اور اس کی حلیف مقامی جماعت مجلس کے عوامی نمائندے اور قائدین حقیقی متا ثرین کے بجائے اپنے حامیوں میں رقومات تقسیم کرتے ہوئے متاثرین کو محروم کر رہے ہیں۔ شہر کے کئی علاقوں سے شکایات ملی ہیں کہ حقیقی متاثرین کو 10,000 روپئے کے بجائے 2 تا 3 ہزار روپئے حوالے کئے گئے جبکہ ان سے دستخط 10,000 روپئے پر لی گئی ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور نامپلی انچارج محمد فیروز خاں نے نامپلی کے مختلف علاقوں احمد نگر ، پوچما بستی ، صابر نگر ، آصف نگر اور گوشہ محل کے متاثرین کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر جی ایچ ایم سی سرکل 12 سے ملاقات کی اور تفصیلات سے واقف کرایا ۔ نائب صدر گریٹر حیدر آباد کانگریس کمیٹی راشد خاں کے ہمراہ متاثرین نے ڈپٹی کمشنر کو امداد کی تقسیم میں بے قاعدگیوں سے واقف کرایا۔ خواتین نے شکایت کی ہے کہ عہدیداروں اور مجلس کے مقامی عوامی نمائندوں نے صرف 2500 روپئے ادا کئے گئے اور باقی رقم بعد میں ادا کرنے کا بہانہ بناکر چلے گئے۔ خواتین نے شکایت کی کہ دس ہزار روپئے حوالے کرتے ہوئے کئی متاثرین میں تقسیم کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پوچما بستی اور انجمن کے علاقوں میں برسر اقتدار اور مقامی جماعت کے حامیوں میں امداد ی رقم تقسیم کی گئی۔ ایسے خاندان جن کا بارش کے سبب بھاری نقصان ہوا ، وہ آج تک بھی رقمی امداد سے محروم ہے۔ آدھار کارڈ اور فون نمبر کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے غیر متاثرین کو رقم حوالے کرنا افسوسناک ہے۔ ڈپٹی کمشنر میونسپل کارپوریشن نے خواتین کی شکایات سن کر حیرت کا اظہار کیا اور اس معاملہ کی جانچ کا تیقن دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اندرون تین یوم وہ تمام حقیقی مستحقین کو امداد کی تقسیم عمل میں لائیں گے اور اس سلسلہ میں ماتحت عہدیداروں کو ہدایت دی جائے گی ۔ فیروز خاں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس اور مجلس کے قائدین انتخابی فائدہ کے لئے اپنے حامیوں میں رقومات تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رقم کی ادائیگی کے وقت عوام سے وعدہ لیا جارہا ہے کہ وہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس اور مجلس کی تائید کریں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT