شہر میں ووٹر میاپنگ میں تیزی کیلئے سیاسی پارٹیوں سے تعاون کی اپیل

   

چیف الیکٹورل آفیسر کا سیاسی نمائندوں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاسی پارٹیوں نے فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم کے آغاز سے قبل مکانات اور رائے دہندوں کی جانچ سے متعلق جاریہ ابتدائی مہم کے بارے میں اپنے اعتراضات درج کرائے ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ سی سدرشن ریڈی نے ایس آئی آر سے قبل کی سرگرمیوں پر سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس طلب کیا جس میں مسلمہ اور ریاستی پارٹیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں رائے دہندوں کی نشاندہی کا کام جاری ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے کہا کہ 2002 کی فہرست رائے دہندگان میں موجود مکانات کے نمبرس کی بنیاد پر عہدیدار ووٹرس کی جانچ کررہے ہیں۔ بیشتر معاملات میں 2002 کی فہرست رائے دہندگان اور رائے دہندوں کے موجودہ ایڈریس میں یکسانیت نہیں ہے جس کے نتیجہ میں ناموں کے حذف ہونے کا اندیشہ ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے بوتھ سطح کے عہدیداروں کو مکمل طور پر ٹریننگ دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ٹریننگ کی کمی کے نتیجہ میں بنیادی سطح پر دشواریوں کا سامنا ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے بتایا کہ حیدرآباد میں ووٹر اور ہاوز میاپنگ کا کام سست رفتاری سے جاری ہے اور محض 31 فیصد کام مکمل ہوا ہے جبکہ ریاست میں مجموعی طور پر 60 فیصد میاپنگ مکمل ہوچکی ہے۔ انہوں نے سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ حیدرآباد میں میاپنگ کے کاموں میں تیزی اور عاجلانہ تکمیل کے لئے حکام سے تعاون کریں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت پر ایس آئی آر مہم سے قبل میاپنگ کا کام شروع کیا گیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے بوتھ لیول اسسٹنٹس کے لئے شناختی کارڈس کی اجرائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ میاپنگ میں آدھار کارڈ کی اہمیت کس حد تک ہے۔ بوتھ لیول اسسٹنٹس کا تقرر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کیا جاتا ہے اور شناختی کارڈ بھی پارٹیوں کو جاری کرنا چاہئے۔ سدرشن ریڈی نے کہا کہ میاپنگ کی مہم کے لئے آدھار کارڈ لازمی نہیں ہے اور وہ شناخت پروف کے دستاویزات میں سے ایک ہے۔ 1