شہر کے خانگی بزنس مینجمنٹ کالجس میں اسپاٹ داخلے

   

بی زمرہ کے تحت ایم بی اے و ایم سی اے میں داخلے، گرائجویشن میں پچاس فیصد نمبرات سے کامیاب طلبہ بھی اہل

حیدرآباد۔4 ستمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے بیشتر خانگی بزنس مینجمنٹ کالجس میں داخلوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان کالجس کے انتظامیہ کی جانب سے اسپاٹ ایڈمیشن کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کیا جاچکا ہے جس کے تحت ایم بی اے میں داخلہ کے خواہشمند طلبہ ان کالجس میں بی زمرہ میں داخلہ حاصل کرسکتے ہیں۔شہر حیدرآباد کے کئی کالجس بشمول انوارالعلوم کالج آف بزنس مینجمنٹ ‘ سینٹ اینس کالج فار ویمن‘ آرادھنا اسکول آف بزنس مینجمنٹ ‘ سینٹ پیوس پی جی ایم بی اے کالج فار ویمن‘ ایمانیول بزنس اسکول‘امجد علی خان کالج آف بزنس اڈمنسٹریشن‘کے علاوہ دیگر کالجس میں ایم بی اے اور ایم سی اے میں بی زمرہ کی نشستیں دستیاب ہیں جو کہ 7 ستمبر تک پر کی جائیں گی اسی لئے داخلہ کے خواہشمند طلباء و طالبات کو 7ستمبر یا اس سے قبل داخلہ کیلئے درخواست داخل کرتے ہوئے کاروائی مکمل کرلینی چاہئے ۔دونوں شہروں میں موجود کئی کالجس کی جانب سے اخبارات میں اشتہار جاری کرتے ہوئے ان کے پاس موجود نشستوں پر داخلوں کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ ان کالجس میں موجود نشستوں پر فوری داخلہ فراہم کیا جائے گا۔

ایم بی اے اور ایم سی اے میں داخلہ کے ذریعہ اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کے خواہشمند طلبہ کو ان کالجس کی جانب سے فراہم کی جانے والی بی زمرہ کی نشستوں پر داخلہ حاصل کرتے ہوئے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنا چاہئے۔کالجس انتظامیہ کے مطابق بی زمرہ کی نشستوں پر داخلہ کیلئے درخواست گذار کا آئی ۔سیٹ کامیاب ہونا لازمی نہیں ہے بلکہ جو طلبہ 50 فیصد نمبرات حاصل کرتے ہوئے گریجویشن کامیاب کرچکے ہیں وہ ان نشستوں پر داخلہ کیلئے درخواست داخل کرسکتے ہیں۔مذکورہ کالجس کے علاوہ شہر کے دیگر کئی کالجس میں بھی ایم بی اے اور ایم سی اے کی نشستیں مخلوعہ ہیں جن پر جاریہ ہفتہ کے دوران بی زمرہ کے تحت داخلوں کا عمل مکمل کیا جائے گا ۔بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ کونسل برائے اعلی تعلیمات کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کی بنیاد پر ہی کالجس کی جانب سے داخلہ فراہم کیا جائے گا اور تمام کالجس میں بی زمرہ کے تحت مقرر فیس وصول کی جائے گی ۔کونسل کی جانب سے تمام زمروں میں داخلوں کے لئے فیس کا کونسل کی ویب سائٹ پر اعلان کیا جاچکا ہے اور کالجس اس کے مطابق ہی فیس وصول کرنے پرمتفق ہیں۔