کچرے کنڈی کا نظم ختم کرنے کے بعد مسائل، بروقت عدم صفائی سے تعفن
حیدرآباد۔20 ستمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں سے کچرے کی نکاسی اور صفائی کے انتظامات نہ کئے جانے پر عوام میں شدید برہمی پائی جا رہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کچرا کنڈی کے نظم کو ختم کئے جانے کے بعد شہر کی ہر گلی اور محلہ میں کچرے کے انبار دیکھے جانے لگے ہیں اور کچر ے کی منتقلی کرنے والے آٹوز کی من مانی کے سبب شہریوں کی جانب سے انہیں کچرا حوالہ کرنے سے گریز کیا جا رہاہے کیونکہ ماہانہ 150تا200 روپئے کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔ آٹوٹرالی کے ذریعہ گھر گھر کچرا لینے کے اقدامات کے سلسلہ میں عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ اس منصوبہ پر مؤثر عمل آوری کی جا رہی ہے لیکن آٹوٹرالی کے ذریعہ کچرے کی وصولی کرنے والوں کی جانب سے عوام کو ہراساں کرنے اور انہیں کچرے اٹھانے کیلئے ماہانہ 200 روپئے تک ادا کرنے کے لئے مجبور کئے جانے کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد نے ان آٹوٹرالی میں کچرا دینا بند کردیا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے شہر سے کچرے دان ہٹا دیئے ہیں اور ان کچرے دانو ںکو ہٹائے جانے کے بعد کچرا سڑک پر ڈالا جانے لگا ہے جس کی وجہ سے شہر میں بدبو و تعفن معمول بن چکا ہے ۔ مغل پورہ پانی کی ٹانکی‘ رعیتو بازار فلک نما ‘ کوٹلہ عالی جاہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کچرا سڑک پر ڈالے جانے کے سبب اطراف و اکناف کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ نئے شہر کے علاقوں مشیرآباد‘ رسالہ ‘ رام نگر اور اطراف کے علاقو ں میں گلی کوچوں کی صفائی کا نظم نہ ہونے اور 8تا10 یوم میں ایک مرتبہ جاروب کشی کی شکایات موصول ہورہی ہیں اسی طرح ان علاقوں میں بھی 200تا300 روپئے ادا کرنے کی صورت میں ہی کچرے کی منتقلی یقینی بنائے جانے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔ پرانے شہر کے علاقو ںمیں کچرے کی منتقلی کے آٹوٹرالی کی قلت کا منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے اعتراف کیا جا رہاہے لیکن ان میں اضافہ کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی اس مسئلہ کی سنگینی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاقوں میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے کچرے کی نکاسی کے نا مناسب اقدامات شہریو ںکے لئے تکلیف کا سبب بننے لگے ہیں اور متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود ان مسائل کے حل کے بجائے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کی جانب سے یہ کہا جار ہاہے کہ آٹو ٹرالی کے ذریعہ کچرے کی منتقلی کے لئے عوام کو معمولی رقم کی ادائیگی میں اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ شہریو ںکا کہناہے کہ اگر جی ایچ ایم سی کی جانب سے کچرے کی منتقلی کیلئے رقم مختص کی جاتی ہے تو وہ ادا کرنے تیار ہیں لیکن بلدی ملازمین کا رویہ تکلیف دہ ہے اور ان کی جانب سے وصول کی جانے والی رقومات کا کوئی حساب نہیں ہے کیونکہ وہ جو رقوما ت وصول کررہے ہیں اس کی کوئی رسید نہیں ہے۔M