شہر گیر سطح پر سی سی کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ لیت و لعل کا شکار

   

حیدرآباد۔22ڈسمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے سلسلہ میں مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے علاوہ محکمہ پولیس اور ٹریفک پولیس کی جانب سے کئے گئے اعلانات پر کس حد تک عمل آوری کی گئی اس کی کوئی رپورٹ موجود نہیں ہے بلکہ محکمہ پولیس کی جانب سے شہریوںنے اپنے گھروں یا تجارتی اداروں پر جو سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے ہیں ان کیمروں کو شمار کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کے اعداد و شمار پیش کرنے شروع کردیئے ہیں جبکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ شہر حیدرآباد میں مختلف محکمہ جات کا ایک مشترکہ کنٹرول قائم کرتے ہوئے شہر کے تمام علاقوں اور اہم سڑکوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی اور جس کسی محکمہ کو کسی علاقہ یا مقام کی ویڈیو چاہئے ہوگی تو انہیں فراہم کی جائے گی اور اس میں محکمہ سیول سپلائز اور دیگر محکمہ جات کو بھی شامل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن اس منصوبہ کے سلسلہ میں کسی سے بھی دریافت کرنے پر یہ کہا جا رہاہے کہ سی سی ٹی وی کی تنصیب کے مکمل کاموں کی ذمہ داری محکمہ پولیس کے حوالہ کی جاچکی ہے۔
اور شہر کے تمام پولیس اسٹیشنوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کے لنک موجود ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر حیدرآباد کو محفوظ اور دیگر ترقی یافتہ شہروں کی فہرست میں لانے لئے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں تیار کردہ منصوبہ کے تحت یہ کہا گیا تھا کہ شہر حیدرآباد میں بلکہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 1لاکھ کیمروں کی تنصیب کے ذریعہ شہر کو محفوظ ترین شہروں کی فہرست میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور اس سلسلہ میں دیگر متعلقہ محکمہ جات سے بھی مدد حاصل کی جائے گی لیکن اس اعلان کے بعد چند یوم تک شعور بیداری مہم چلائی جاتی رہی اور بعض مصروف ترین علاقوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی گئی جبکہ دیگر علاقوں کی حالت جوں کی توں برقرار ہے اور اس سلسلہ میں منتخبہ عوامی نمائندو ںکی جانب سے بھی کوئی سوال نہیںکیا جا رہا ہے کہ جی ایچ ایم سی نے جو منصوبہ تیار کیا تھا اس پر عمل آوری کیوں نہیں کی جارہی ہے۔ذرائع کے بموجب جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے اس مکمل پراجکٹ کے سلسلہ میں درکار بجٹ کی تفصیلات پیش کئے جانے کے بعد سرکردہ ذمہ داروں نے بجٹ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس منصوبہ کے سلسلہ میں بات چیت کا سلسلہ بھی ترک کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ محکمہ پولیس کی مدد سے جی ایچ ایم سی ویڈیو حاصل کررہی ہے۔