نئی دہلی ۔ 29 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ایک ہندو تنظیم کے اس مطالبہ کو آج مشکل قرار دیا کہ وہ تقریباً 500 سال گزرجانے کے بعد اس معاملہ کی عدالتی طور پر تنقیح کرے کہ مغل شہنشاہ بابر نے ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ کو اللہ کے نام وقف کردیا تھا تاکہ وہ اسلام کے شعائر کے تحت باقاعدہ مسجد ہوجائے۔ کونسل برائے اکھل بھارتیہ سری رام جنم بھومی پونارودھر سمیتی نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت والی پانچ رکنی دستوری بنچ کو بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے غلطی کی کہ وہ اس معاملہ میں نہیں پڑے گی کہ بابر نے شریعت ، حدیث اور دیگر اسلامی رواجوں کی تعمیل کئے بغیر مسجد تعمیر کردی تھی ۔ ہندو تنظیم جو اس کیس میں مسلم فریق کی جانب سے داخل کردہ مقدمہ میں مدعا علیہ ہے، اس کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ پی این مشرا نے کہا کہ ان الزامات کا فیصلہ کرنے کے بجائے کہ بابر اس اراضی کے مالک نہیں تھا اور مسجد کے لئے وقف کرنے کا مجاز بھی نہیں تھا، ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ چونکہ 500 سال گزرچکے ہیں، اس لئے وہ اس مسئلہ میں نہیں پڑے گی جو مورخین کے لئے بحث کا معاملہ ہوسکتا ہے۔ مشرا نے بنچ کو بتایا کہ اسلام میں بابر جیسا قطعی حکمراں تک سب کچھ نہیں کرسکتا، اسے مذہب کی تعمیل بہرحال کرنی ہوتی ہے۔ دستوری بنچ میں جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر شامل ہیں۔ یہ بنچ رام جنم بھومی۔بابری مسجد اراضی تنازعہ کے سیاسی طور پر حساس کیس کی لگاتار 15 ویں روز سماعت کر رہی تھی۔ بنچ نے کہا کہ جو کچھ ہائی کورٹ نے یہاں کہا ہے کہ بابر کو قطعی اختیار تھا اور اس نے کچھ اقدام کیا جس پر نظر ثانی نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں (ہائی کورٹ) نے کہا کہ اب ہم اس تنازعہ میں نہیں پڑسکتے کہ جو کچھ بابر نے کیا ، وہ شریعت کے مغائر تھا یا نہیں۔ بنچ نے مزید کہا کہ اسلامی شریعت اور رواجوں کی مبینہ خلاف ورزیوں میں پڑے بغیر ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ اس پہلو سے نمٹے گی کہ عوام اسے مسجد مانتے ہیں۔ بنچ نے مزید کہا کہ اگر ہم سے بابر کی جانب سے اس اراضی کو مسجد کے طور پر وقف کردینے کے دستوری جواز کے بارے میں پوچھا جائے تو یہ کچھ مشکل معاملہ رہے گا۔ مسلمان یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ وہ زائد از 400 سال وہاں عبادت کرتے رہے اور ہندوؤں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو ہزار سال سے وہاں پوجا کر رہے ہیں اور بحث اس بات کی ہے کہ عدالتوں کو اس عرضی کا جائزہ لینا چاہئے کہ آیا شہنشاہ بابر کا اقدام غیر درست ہے ؟