مدینہ منورہ بس سانحہ کے شہدا کے لواحقین میں ایکس گریشیا کی تقسیم
چیف منسٹر سے مولانا سید غلام سید بیابانی کی درگاہ اسوسی ایشن سے نمائندگی
حیدرآباد۔28فروری(سیاست نیوز) مدینہ منورہ بس سانحہ میں جاںبحق شہداء کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے ایکس گریشیاء کی حوالگی کے لئے منعقدہ تقریب پر بھی درگاہ حضرت سید تاج الدین باگ سوارؒ کی شہادت کا مسئلہ چھایا رہا۔ صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی مولانا سید غلام سید افضل بیابانی نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے ملاقات کو غنیمت جانتے ہوئے تلنگانہ ڈسٹرکٹ درگاہ اسوسیشن کی جانب سے ایک مکتوب نمائندگی حوالہ کرتے ہوئے درگاہ حضرت باگ سوارؒ کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ چیف منسٹر کو انہوں نے درگاہ کی تاریخی اہمیت سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی تاریخ میں اس درگاہ کو کافی اہمیت حاصل ہے اور کئی صدیوں سے ویملواڑہ میں مندر اور درگاہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی و یکجہتی کے مرکز کے طور پر منفرد شناخت بنائے ہوئے تھے لیکن گذشتہ دنوں ویملواڑہ میں درگاہ کو شہید کرنے کی کاروائی سے عوام بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی پائی جانے لگی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ویملواڑہ میں درگاہ حضرت سید بابا تاج لدین باگ سوارؒ کی شہادت سے لاعلمی کا اظہار کیا اور اس معاملہ میں تفصیلات حاصل کرتے ہوئے فیصلہ کرنے کا تیقن دیا۔ مدینہ منورہ میں پیش آئے بس سانحہ کے دوران جاںبحق افراد کے 44لواحقین کو ریاستی حکومت کی جانب سے 5لاکھ روپئے معاوضہ ادا کیاگیا ۔ زائد از تین گھنٹے انتظار کے بعد عین افطار سے قبل چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اس تقریب میں چیکس کی تقسیم کے لئے پہنچے اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔ تقریب میں ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین ‘ صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن جناب عبید اللہ کوتوال ‘ مولانا غلام سید افضل بیابانی خسرو پاشاہ صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی ‘رکن اسمبلی نامپلی جناب ماجد حسین ‘ اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس اور دیگر موجود تھے ۔ بعد ازاں کوکا پیٹ میں ’شاردھاپیٹھ‘ کی اراضی محکمہ آبرسانی کے حوالہ کرنے کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے فوری ان احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے عہدیداروں کو برہمی کا اظہار کیا۔3