ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد ، روڈ ٹرانسپورٹ اور پلوں کے سابق وزیر عبیدالقادر، سابق رکن اسمبلی شمیم عثمان، سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان سمیت 62 افراد کے خلاف نارائن گنج کے علاقہ سدھیر گنج میں مچھلی کے تاجر کے قتل کا مقدمہ درج کر لیاگیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ مقدمہ مقتول محمد ملون کی بیوہ شہناز بیگم کی طرف سے سدھیر گنج تھانے میں درج کرایا گیا جس کے بعد سابق وزیر اعظم کے خلاف درج کرائے جانے والے مقدمات کی تعداد ایک درجن تک پہنچ گئی ۔مقدمہ میں دیگرنامزد ملزمین میں سابق رکن اسمبلی شمیم عثمان کا بیٹا آیون عثمان، ان کا بھتیجا ازمیری عثمان اور نارائن گنج میٹروپولیٹن عوامی لیگ کے آرگنائزنگ سکریٹری شاہ نظام شامل ہیں۔مقدمہ کے اندراجات کے مطابق 21 جولائی کو طلبہ کی تحریک میں خلل ڈالنے کیلئے عوامی لیگ اور اس سے منسلک تنظیموں کے قائدین اور کارکنوں نے آتشیں اسلحہ، کاک ٹیلز اور لاٹھیوں سے مسلح ہو کر ڈھاکہ چٹاگانگ ہائی وے پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور لوگوں کو خوفزدہ کیا۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے وزیر داخلہ اسد الزماں نے مبینہ طور پر دیگر ملزمین کو احتجاجی مظاہرے کے شرکا پر فائرنگ کا حکم دیا تھا۔