صارفین کو برقی بلز کے جھٹکے ‘ 5 فیصد اضافہ کا دعویٰ جھوٹا

   

اندرون 100 یونٹس برقی استعمال پر 60 فیصد، اندرون 200 یونٹس پر 27 فیصد اضافہ
حیدرآباد 9 مئی (سیاست نیوز) ریاست میں برقی بلز صارفین کو زبردست شاک (جھٹکے) دے رہے ہیں۔ ڈسکامس کی جانب سے صرف 5 فیصد برقی چارجس میں اضافہ کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ اندرون 100 یونٹس برقی استعمال کرنے والے صارفین کو 60 فیصد سے زیادہ چارجس میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جس سے غریب اور متوسط طبقہ کے عوام پر بھاری مالی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ اندرون 200 یونٹس برقی استعمال کرنے والے صارفین کے چارجس میں 27 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ریاست میں یکم اپریل سے اضافہ شدہ برقی شرحوں پر عمل ہورہا ہے۔ مگر ایک ہفتہ سے برقی بلز صارفینن کو وصول ہورہے ہیں۔ ماہ مارچ میں 83 یونٹ برقی استعمال کرنے والے ایک صارف کو 188 روپئے برقی بل وول ہوا تھا۔ اپریل میں 89 یونٹس برقی کے استعمال پر 307 روپئے کا بل وصول ہوا ہے۔ ایک اور صارف نے مارچ میں 123 یونٹس برقی استعمال کرنے پر 476 روپئے برقی بل وصول ہوا تھا۔ اپریل میں 127 برقی یونٹس استعمال کرنے پر اس صارف کو 639 روپئے بل وصول ہوا ہے۔ ڈسکامس کی جانب سے تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (ٹی ایس ای آر سی) کو داخل کردہ پٹیشن میں گھریلو برقی صارفین سے 800 یونٹس تک برقی کے استعمال پر ہو یونٹ پر 50 پیسے کا اضافہ کے فیصلے سے واقف کرایا گیا تھا لیکن اسکے برخلاف زیادہ برقی چارجس وصول کئے جارہے ہیں۔ ڈسکام نے (ای آر سی) کو مقررہ 15 روپئے وصول کرنے کی درخواست کی جس پر کمیشن نے 10 روپئے وصول کرنے کی ہدایت دی تھی۔ لیکن چند سلابس میں 14 روپئے تک وصول کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ خدمات چارجس میں بھاری اضافہ کیا گیا ۔ 200 یونٹس تک برقی استعمال کرنے والے صارفین سے گزشتہ کے مقابلے میں زیادہ اضافہ نہیں کیا گیا مگر اندرون 100 یونٹس برقی استعمال والے غریب و متوسط طبقہ کے عوام پر زیادہ مالی بوجھ عائد کردیا گیا ہے۔ ن