Saturday , September 21 2019

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے

لال قلعہ سے مودی بولے … آر ایس ایس کی بولی
ہندوستان آزاد ۔ کشمیر قید میں

رشیدالدین

وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے ہندوتوا اور آر ایس ایس ایجنڈہ کے اظہار کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ حکومت کی ترجیح عوامی ایجنڈہ نہیں بلکہ فرقہ وارانہ ایجنڈہ ہے۔ 73 ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم کے روایتی خطاب میں کشمیر سے 370 کی برخاستگی اور طلاق ثلاثہ پر پابندی سے متعلق قوانین کا تذکرہ پہلے سے طئے دکھائی دے رہا تھا لیکن ان فیصلوں کو جس طرح کارنامہ کے طور پر پیش کیا گیا، اس کی توقع نہیں تھی۔ لال قلعہ سے خطاب میں یہ روایت رہی ہے کہ وزرائے اعظم ملک کو درپیش مسائل اور گزشتہ ایک سال کی ترقی اور آئندہ کے منصوبوں کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ 2014ء سے آج تک مودی نے مختلف نعروں کے ساتھ عوام کو کئی ایک خواب دکھائے۔ اچھے دن، سب کا ساتھ سب کا وکاس، میک اِن انڈیا، بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ اور سب کا وشواس کا نعرہ لگایا گیا۔ وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ ان نعروں کی تکمیل کا رپورٹ کارڈ لال قلعہ کی فصیل سے عوام میں پیش کرتے ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں کتنے روزگار فراہم کئے گئے، غریبی، بیروزگاری اور بیماری جیسے سنگین مسائل کا حل کہاں تک تلاش کیا گیا؟ ان مسائل کا احاطہ کرنے کے بجائے مودی نے خود کو دو ایسے اُمور تک محدود کرلیا جن کا تعلق ملک کی دوسری بڑی اکثریت اور سب سے بڑی اقلیت سے ہے۔ نریندر مودی یہ بھول گئے کہ وہ صرف کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کے نہیں بلکہ ساری قوم کے وزیراعظم ہیں۔ طلاق ثلاثہ ساری قوم کا نہیں صرف مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ اس پر پابندی سے دوسرے طبقات اور مذاہب کو کیا فائدہ ہوگا۔ ویسے بھی اس قانون سازی سے خود مسلم خواتین کو کیا فائدہ ہوا، مودی اس کے اظہار سے قاصر رہے۔ رہی بات کشمیر سے 370 اور 35A کی برخاستگی کی وزیراعظم کو اس کارنامہ کے ساتھ وادی کے موجودہ حالات سے بھی قوم کو واقف کرانا چاہئے تھا۔ ان دِنوں ہندوستان مالیاتی اور معاشی انحطاط سے گذر رہا ہے۔ آٹو موبائل انڈسٹری بحران سے دوچار ہے، مینوفیکچرنگ یونٹس کے بند ہوجانے کے خطرے کے تحت لاکھوں افراد پر روزگار سے محرومی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ان مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے فرقہ وارانہ ایجنڈہ اختیار کرلیا گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی جس قوم کے خلاف فیصلوں پر مودی اپنی پیٹھ خود تھپتھپا رہے تھے، اسی قوم کے آباء و اجداد کی نشانی سے وہ خطاب کررہے تھے۔ ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک مسلمانوں کے تاریخی ورثہ اور نشانی پر قومی پرچم لہرایا جارہا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ترنگا کی عظمت میں اضافہ کرتے ہوئے لال قلعہ نے اسے اپنے سََر کا تاج بنایا ہے۔ مودی حکومت کو مسلمانوں کی شریعت سے نفرت ہے لیکن مسلمانوں کی نشانی سے خطاب کے سواء کوئی چارہ نہیں ہے۔ مسلمانوں سے جب اتنی نفرت تو پھر لال قلعہ کے علاوہ کسی اور مقام کا انتخاب کرکے دکھائیں۔ ہندوستان میں ٹورازم، لال قلعہ سے لے کر چارمینار تک مسلمانوں کی نشانیوں کی دین ہے۔ اگر ان کو ختم کردیا جائے تو سیاحوں کیلئے ہندوستان میں کچھ نہیں رہے گا۔ ملک کے چپے چپے پر ہماری عظمتوں کی نشانیاں ملک کی شان و شوکت میں اضافہ کررہی ہیں۔ شریعت کے خلاف قانون سازی اور دفعہ 370 کو تو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن لال قلعہ اور قطب مینار کو گرایا نہیں جاسکتا۔

نریندر مودی نے اپنے خطاب میں مزید اقدامات کا اشارہ دیا۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں تبدیلیٔ مذہب پر پابندی سے متعلق قانون منظور کیا جائے۔ عیسائی مشنریز کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے بہانے یہ قانون بھی مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں اہم رول ادا کرے گا۔ اس قانون کے ذریعہ دیہی علاقوں میں اسلام کی تبلیغ سے متعلق سرگرمیوں پر نہ صرف پابندی عائد ہوگی بلکہ تبلیغ سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرنے والوں کو سزا کی گنجائش رہے گی۔ وزیراعظم نے کئی کارنامے بیان کئے لیکن ہجومی تشدد اور ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا حالانکہ ان کی دوسری میعاد کا آغاز ہجومی تشدد سے ہوا تھا۔ اس معاملے پر نریندر مودی کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ زعفرانی دہشت گردوں کو مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ مودی اپنی دوسری میعاد میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوشش کرسکتے ہیں۔ لوک سبھا میں دوتہائی اکثریت کے بعد اب راجیہ سبھا پر بھی وہ کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ کشمیر میں 370 کی برخاستگی کے بعد سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کشمیری عوام اس فیصلے سے خوش ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام مسلسل قید میں ہیں۔ بائیں بازو جماعتوں اور دیگر جہد کاروں نے کشمیر کا دورہ کرتے ہوئے جو ڈاکیومنٹری تیار کی، اس کا ٹائٹل ’’قید میں کشمیر‘‘ دیا گیا ہے۔ اس ڈاکیومنٹری کو ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ خصوصی موقف کو برخاست کرنا کوئی اہمیت کی بات نہیں لیکن کشمیریوں کو اظہار خیال اور زندہ رہنے کے حق سے محروم کرنا غیردستوری ہے۔ کشمیر کے چپے چپے میں خوف و دہشت کا ماحول اور کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ حقیقی صورتحال تو صرف وہاں تعینات عہدیدار ہی بتا سکتے ہیں۔ حکومت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول نے بعض علاقوں کا دورہ کیا اور پھر فضائی سروے سے کشمیر کی صورتحال کو دیکھا۔ فضائی سروے خود کشمیر کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ جب حکومت کے سلامتی مشیر کو کشمیر میں فوج اور پولیس سلامتی کا تیقن نہیں دے سکتی تو پھر عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ اپوزیشن قائدین اور عوامی تنظیموں کے قائدین کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ انہیں کن جیلوں میں محروس رکھا گیا، اس کی تفصیلات آج تک جاری نہیں کی گئی۔ پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت کے غرور میں نریندر مودی حکومت کچھ بھی کرسکتی ہے لیکن وہ اس حقیقت کو فراموش نہ کرے کہ ہر عروج کے بعد زوال یقینی ہے۔ مودی کو آنجہانی راجیو گاندھی کو یاد کرنا چاہئے جو 400 نشستوں کے ساتھ لوک سبھا میں داخل ہوئے تھے لیکن مختصر عرصہ میں داخلی بغاوت ہوئی اور نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔ پارلیمنٹ اور قانون سازی کا سہارا لے کر ملک کے عوام پر ظلم کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہندوستان کے خمیر میں محبت و رواداری ہے۔ شیواجی کے کمانڈرس مسلمان تھے جبکہ مغل بادشاہ نے راجپوتوں اور ہندوؤں کو اپنے وفادار بنا رکھے تھے۔ مودی کا مزاج ہٹلر سے کچھ کم نہیں، لیکن یہ مزاج ، ملک کے مزاج سے میل نہیں کھاتا۔ کانگریس نے عوام کے جذبات اور ملک کے مزاج کے احترام میں شاہ بانو مقدمہ کے وقت دستوری ترمیم کے ذریعہ سپریم کورٹ کے مخالف شریعت فیصلہ کو بے اثر کیا تھا۔ بی جے پی کی یہ کامیابی محض وقتی ہے اور جمہوریت میں پارٹیوں کے دن بدلتے رہتے ہیں۔ بی جے پی کو کانگریس کے حشر سے سبق لینا چاہئے جو 400 سے گھٹ کر 40 پر پہنچ چکی ہیں۔ جس پارٹی نے ملک کو آزادی دلائی، عوام نے اسی پارٹی کو مسترد کردیا۔ الغرض اقتدار کا نشہ کبھی بھی اُتر سکتا ہے۔
کشمیر سے 370 کی برخاستگی کے بعد وزیر داخلہ امیت شاہ ملک میں دوسرے سردار پٹیل کی طرح سینہ تان کر گھومنے لگے۔ یہاں تک اعلان کیا گیا کہ امیت شاہ کشمیر کے لال چوک پر ترنگا لہرائیں گے جہاں پنڈت جواہر لال نہرو نے ترنگا لہرایا تھا لیکن 56 انچ کا سینہ رکھنے والے امیت شاہ نے سرینگر کا رُخ نہیں کیا۔ آخر کیا بات ہوگئی کہ امیت شاہ سرینگر جانے سے چوک گئے یا پھر حالات نے انہیں خوف کا شکار کردیا۔ نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے چھوٹے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کی اور آبادی میں اضافہ پر تشویش ظاہر کی۔ جو شخص خود خاندان کے تصور سے لاعلم ہو، وہ چھوٹے یا بڑے خاندان کے بارے میں کیا تبصرہ کرسکتا ہے۔ آبادی میں اضافہ ملک کیلئے خطرہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ خطرہ انسان کا درندہ بن جانا ہے۔ آبادی پر کنٹرول سے زیادہ مودی کو بربریت کے واقعات پر کنٹرول کرنا چاہئے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا :’’ہر بچے کی پیدائش اس بات کا اظہار ہے کہ خدا انسان سے ناراض نہیں‘‘۔ مودی نے چھوٹے خاندان کی ایسی منفرد مثال قائم کی کہ کوئی بھی شخص اس راستہ پر چلنے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ انہوں نے خاندان بنانے والی خاتون کو ہی بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ چھوٹے خاندان کے مسئلہ پر مودی کا دوہرا معیار اس وقت دیکھنے کو ملا جب انہوں نے لال قلعہ سے چھوٹے خاندان کی وکالت کی لیکن نیچے اُترتے ہی بچوں میں گھل مل گئے اور خود کو موجودہ دور کے ’’چاچا نہرو‘‘ ظاہر کرنے لگے۔ اگر بچے ہی نہ ہوں تو پھر مودی سے ملنے کیلئے کون آئے گا۔ اگر بچے، مودی کی بھاشا سمجھنے لگ جائیں تو اندیشہ ہے کہ آئندہ سال وہ وزیراعظم کا استقبال کرنے کیلئے لال قلعہ نہ پہنچیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو مایوسی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ حالات ہمیشہ ایک طرح کے نہیں ہوتے اور وقت کی تبدیلی قدرت کا قانون ہے۔ گزشتہ 70 برسوں میں مسلمانوں نے ہزاروں فسادات کا سامنا کیا لیکن وہ دوبارہ حوصلہ مندی کے ساتھ ترقی کے راستہ پر گامزن رہے۔ فرقہ پرست طاقتیں چاہتی یہی ہیں کہ مسلمانوں کو فسادات یا ہجومی تشدد کے ذریعہ پست ہمت کردے۔ بہادر شاہ ظفر نے کیا خوب کہا ہے:
صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا

TOPPOPULARRECENT