صحت مند معاشرے کی تشکیل میں صحت مند صحافت لازمی

   

مانو میں ورکشاپ ، ہیلتھ جرنلزم کی تقریب ، ڈاکٹر اسلم پرویز کا خطاب
حیدرآباد، 15 نومبر (سیاست نیوز) وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ڈاکٹر محمد اسلم پرویزنے آج شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت اور اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) کے تعاون سے ورکشاپ ’’کنونشن برائے حقوقِ اطفال ‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ذہنی و جسمانی طور پر صحتمند، تعلیم یافتہ اور وسیع النظر ماں ہر بچے کا اولین حق ہے جو اس کی پیدائش سے پہلے ہی اسے ملنا چاہیے۔ اسی کے ساتھ ایک سال قبل شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت کے زیر اہتمام شروع کردہ ہیلتھ جرنلزم پروگرام کا اختتامی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے مزید کہا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے صحافت کا بھی صحت مندانہ خطوط پر استوار ہونا ضروری ہے اور خصوصی طور پر صحت سے متعلق صحافت کو فروغ دینے کے لیے اُردو یونیورسٹی نے صحافیوں کے لیے ہیلتھ جرنلزم کا کورس متعارف کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے لیے صحت مند غذائیں استعمال کرنا ضروری ہے اور صحافت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو مرغن و مسلم پکوان سے آگے بڑھ کر صحت مند غذائوں اور صحت مند عادتوں کو فروغ دینے کے لیے کام کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اردو میں سائنس، طب و صحت پر شعور بیداری کے وسیع تر مواقع دستیاب ہیں، جن سے نئے صحافی استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے انسان سہل پسند ہوگئے ہیں۔ جبکہ وہ اپنے کام خود کرے تو اس سے بڑھ کر دوسری کوئی ورزش نہیں ہے۔ قبل ازیں پروگرام کے آغاز پر یونیسیف چیف فیلڈ آفیسر محترمہ میتل رسدیا نے خیر مقدمی کلمات کہے اور کہا کہ صحافیوں کو ہیلتھ جرنلزم کے موضوع پر تربیت دینے کے لیے یونیسیف نے خبر رساں ادارے رائٹرز اور آئی آئی ایم سی کے تعاون سے سال 2016ء میں شروع کیا۔ محترمہ رسدیا نے کہا کہ صحافیوں کو ہیلتھ جرنلزم کی تربیت دینے کا مقصد صحت کے متعلق رپورٹر حضرات کو حساس بنایا جائے اور ان کے موضوعات پر شعور کو بیدار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف ہندوستان میں گذشتہ 17 برسوں سے سرگرم عمل ہے اور کئی شعبوں میں حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ یونیسیف کی خاتون عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ مانو کے ساتھ یونیسیف مستقبل میں بھی کام کرے گا۔ تقریب کے آغاز میں صدر شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت پروفیسر احتشام احمد خان نے تعارفی تقریر میں کہا کہ اردو صحافت میں صحت کے متعلق موضوعات پر صحیح طرح سے رپورٹنگ نہیں ہوتی ہے اور اردو یونیورسٹی اردو صحافیوں کو صحت کے متعلق رپورٹنگ کی تربیت کے لیے ہر ممکنہ تعاون کرے گی۔ پروفیسر احتشام احمد خان نے اس بات کو تسلیم کیا کہ شعبۂ ترسیل عامہ نے ہیلتھ جرنلزم کے نصاب کو تجرباتی بنیادوں پر شروع کیا ہے اور اپنے پہلے برس کے دوران بہت کچھ سیکھا ہے اور آئندہ اس کورس کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ پروگرام کا آغاز بی اے جے ایم سی کے طالب علم امام علی کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ پروفیسر محمد فریاد نے پروگرام کی کارروائی چلائی۔ اختتامی تقریب کے دوران ہیلتھ جرنلزم کے کورس میں شریک تمام طلبہ میں اسنادتقسیم کیے گئے اور ان اساتذہ کو بھی اسناد دیئے گئے جنہوں نے ہیلتھ جرنلزم کے لیے تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ اس موقع پر جناب پرسون سین، کمیونکیشن اسپیشلسٹ، یونیسیف، محترمہ سونیا سرکار، کمیونکیشن آفیسر (میڈیا)، یونیسیف انڈیا، جناب تحسین منور، ایڈیٹر، نیوز 18 اردو، ڈاکٹر ایم ایچ غزالی، ایڈیٹر، یونائیٹڈ نیوز نیٹ ورک اور شعبۂ صحافت و ترسیل عامہ کے اساتذہ جناب محمد مصطفی علی، ڈاکٹر معراج احمد مبارکی، جناب سید حسین عباس رضوی، جناب طاہر قریشی اور جناب معراج احمد نے پروگرام میں شرکت کی۔