نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف، کورونا کی واحد ویکسن ماسک کا استعمال
حیدرآباد: کورونا وائرس کے سلسلہ میں ایک نئی تحقیق نے عوام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور وہ وائرس سے بچاؤ کے سلسلہ میں مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ مختلف ہاسپٹلس میں کورونا کے مریضوں کے علاج اور صحت یابی کی بنیاد پر کئے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کورونا سے شدید طورپر متاثر ہونے والے شخص میں صحت یابی کے 90 دنوں تک وائرس برقرار رہتا ہے اور وہ کسی بھی وقت دوبارہ متاثر کرسکتا ہے۔ تجزیہ میں پتہ چلا ہے کہ ایسے مریض دوسروں میں وائرس پھیلا سکتے ہیں۔ وائرس کی مدت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹرس نے کووڈ۔19 کے مریضوں کے آئسولیشن کے وقت میں اضافہ کی سفارش کی ہے۔ امریکہ کے ادارہ سنٹر فار ڈسیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے اعداد و شمار کے حوالے سے اپنی رپورٹ جاری کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معمولی اثر کی صورت میں انفیکشن 10 دن تک برقرار رہ سکتا ہے۔ ایسے افراد جن قوت مدافعت کم ہو وہ 20 دن تک متاثر رہ سکتے ہیں جبکہ شدید طور پر بیمار افراد میں وائرس 90 دن تک برقرار رہتا ہے۔ 90 دن کے بعد ہونے والا کوئی بھی انفیکشن کورونا نہیں ہوتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہیلت کیر ورکرس میں آر ٹی پی سی آر ٹسٹ پازیٹیو پائے جانے کے باوجود ان میں کوئی علامتیں نئی پائی گئیں۔ اسی دوران محکمہ صحت کے عہدیداروں نے کہا کہ کووڈ۔19 کی واحد ویکسن ماسک کا استعمال ہے۔ لہذا عوام کو کورونا سے بچنے کیلئے ماسک کے استعمال کو لازمی کرلینا چاہئے ۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت تلنگانہ ڈاکٹر جی سرینواس کے مطابق کورونا سے فوت ہونے والے 45 فیصد افراد وہ تھے جن میں کوئی دوسری بیماری نہیں تھی جبکہ 55 فیصد افراد میں کورونا کے علاوہ دیگر عوارض پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ پروٹوکول کی پابندی کرتے ہوئے عوام اپنے آپ کو اس مہلک وائرس سے بچا سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہجوم کے مقامات سے گریز کریں۔