صدارتی انتخابات میں اپوزیشن کے متحدہ امیدوار کیلئے کے سی آر کی مساعی

   

جگن موہن ریڈی اور نوین پٹنائک کا موقف اہمیت کا حامل، بی جے پی قیادت کا علاقائی جماعتوں سے ربط
حیدرآباد۔2 ۔ مئی (سیاست نیوز) صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے جولائی میں انتخابات سے قبل ملک میں سیاسی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ برسر اقتدار بی جے پی اپنی حلیف جماعتوں کے علاوہ ہم خیال جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن نے صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ ان سرگرمیوں میں تین علاقائی جماعتیں توجہ کا مرکز بن چکی ہیں جن میں تلگو ریاستوںکے علاوہ اڈیشہ کی بیجو جنتا دل شامل ہیں۔ ایک طرف بی جے پی ان جماعتوں کی تائید حاصل کرنے یا پھر انہیں غیر جانبدار رکھتے ہوئے اپوزیشن سے دور رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں متحدہ امیدوار کے حق میں تائید کی خواہاں ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے صدر جمہوریہ کے عہدہ کیلئے متحدہ امیدوار کے مسئلہ پر علاقائی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کیا ہے تاکہ اتفاق رائے پیدا ہو۔ چیف منسٹر نے حال ہی میں جھارکھنڈ کے چیف منسٹر ہیمنت سورین سے اس مسئلہ پر بات چیت کی۔ کے سی آر علاقائی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کیلئے جاریہ ماہ کے اواخر میں بعض ریاستوں کے دورہ کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ ترنمول کانگریس ، ڈی ایم کے ، شیوسینا اور سماج وادی پارٹی کے علاوہ بائیں بازو جماعتوںکی تائید حاصل کی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر اپنی مہم سے قبل این سی پی رہنما شردپوار کا موقف جاننے کی کوشش کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر جمہوریہ کے عہدہ کیلئے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کو درکار 9194 ووٹس میں کچھ کمی ہے۔ ایسے میں وائی ایس آر کانگریس اور بیجو جنت دل کا رول اہمیت کا حامل رہے گا۔ 2017 ء صدارتی انتخابات میں ٹی آر ایس ، بیجو جنتا دل اور وائی ایس آر کانگریس نے رامناتھ کووند کی تائید کی تھی۔ تلنگانہ میں بی جے پی سے ٹکراؤ اور مرکز کے خلاف کے سی آر اور وزراء کی بیان بازیوں کے پس منظر میں امید کی جارہی ہے کہ کے سی آر اس مرتبہ اپوزیشن کے ساتھ رہیں گے۔ دوسری طرف وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور بیجو جنتا دل نے اپوزیشن کی تائید کے امکانات کو مسترد کردیا ہے۔ دونوں علاقائی جماعتیں اپنی ریاستوں کی بہتر ترقی کیلئے مرکز سے ٹکراؤ نہیں چاہتیں۔ جگن موہن ریڈی اور نوین پٹنائک کے غیر جانب دارانہ موقف سے بی جے پی امیدوار کی کامیابی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ بی جے پی قیادت دونوں چیف منسٹرس کو پارٹی امیدوار کی کھل کر تائید کے بجائے غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرنے کی صلاح دے رہی ہے تاکہ صدارتی امیدوار کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ر