اسلام آباد : پاکستان کے صدرڈاکٹرعارف علوی نے پارلیمان کے منظورکردہ انتخابی اصلاحات اور قومی احتساب بیورو (نیب) کیآرڈی ننس میں ترامیم سے متعلق بل توثیق کے بغیروزیراعظم کو واپس بھیج دیے ہیں۔صدر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آئی ووٹنگ اور نیب کے وسیع اختیارات میں کمی بیشی کے حوالے سے دونوں بل وزیراعظم شہبازشریف کو اس ہدایت کے ساتھ واپس بھیجے ہیں کہ پارلیمنٹ اور اس کی متعلقہ کمیٹیاں ان پر دوبارہ تفصیلی غوروخوض کریں۔یہ دونوں بل گذشتہ ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے منظور کیے تھے۔ صدر اگر ان کی توثیق کردیتے تو یہ قانون بن جاتے لیکن انھوں نے بوجوہ کی ان کی منظوری نہیں دی۔انھوں نے کہا ہے کہ پارلیمان میں ان بِلوں کی منظوری کے وقت آئین کے آرٹیکل 46 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔اس کے مطابق وزیراعظم ’’صدر کو داخلی اور خارجہ پالیسی کے ان تمام معاملات اور قانون سازی کی تجاویزسے متعلق آگاہ رکھیں گے جو وفاقی حکومت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہے‘‘۔صدارتی سیکرٹریٹ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوں کو پارلیمنٹ میں لانے سے قبل صدر کو قانون سازی کی تجاویز کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 27 اور 29 مئی کو عجلت میں مناسب غوروخوض کے بغیر منظور کیے تھے۔