صدر غنی کا طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل جلد مکمل کرنے کا اعلان

   

زلمے خلیل زاد کی مداخلت اور قمرباجوہ کے دورہ کابل کے بعد امن عمل میں تیزی کی امید
ہم درست سمت میں گامزن

اسلام آباد ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان کے مزید دو ہزار قیدیوں کو بہت جلد رہا کر دیا جائے گا جس کے بعد بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ان خیالات کا اظہار صدر غنی نے جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں قائم امریکی تھنک ٹینک ‘اٹلاٹنک کونسل’ اور ‘یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس’ کے زیرِ اہتمام ایک تقریب میں ویڈیو خطاب کے دوران کیا۔صدر غنی نے کہا کہ گزشتہ ماہ عید الفطر کے موقع پر ہونے والی تین روزہ جنگ بندی کے نتیجے میں ان کی حکومت نے کئی اہم اقدمات کیے ہیں جن میں تین ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے باقی ماندہ 2000 طالبان قیدیوں کو جلد رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تاریخ کا اعلان بہت جلد کر دیا جائے گا۔البتہ افغان صدر نے طالبان کی حراست میں افغان فوجیوں کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس 1,000 قیدی ہیں لیکن یہ تعداد تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں یہ یقین دہانی چاہیے کہ ان تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔صدر غنی نے کہا کہ ہم درست سمت میں گامزن ہیں اور اگلے ہفتے دنیا کو ایئندہ اقدامات کے بارے میں آگاہ کریں گے۔رواں سال 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے لگ بھگ پانچ ہزار طالبان قیدی جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے ایک ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک افغان حکومت 3000 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی ہے جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے 750 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں تاخیر سے افغان امن عمل کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے تھے۔

لیکن حال ہی میں امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی مداخلت اور پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ کابل کے بعد امن عمل میں تیزی کی اْمید پیدا ہوئی ہے۔دوسری جانب طالبان ترجمان نے افغان حکومت کی طرف سے 2000 طالبان قیدیوں کی رہائی کے اعلان کو ایک اچھی پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسے مثبت اقدام قرار دیا ہے۔طالبان ترجمان سہیل شاہین نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ دوحہ معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات سے قبل طالبان کے 5000 قیدیوں کو رہا ہونا چاہیے۔اْنہوں نے کہا کہ جیسے ہی تمام طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہو گا، طالبان بھی ایک ہفتے کے اندر بین الافغان مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے۔امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں تیزی کو خوش ایئند قرار دیا ہے۔خلیل زاد نے اپنی متعدد ٹوئٹس میں طالبان کی طرف سے بین الافغان مذاکرات میں شرکت کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ اگرچہ بین الافغان مذاکرات کی کئی تفصیلات طے کرنا باقی ہیں تاہم اس کے باوجود یہ اچھی پیش رفت ہے۔