صدر ٹرمپ کو اچانک ایران سے بات کرنے کا خیال کیسے آیا؟

   

واشنگٹن، 24 مارچ (یو این آئی) امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے جب فلوریڈا روانہ ہو رہے تھے تو انہیں اچانک ایران سے جنگ بندی کا خیال آیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فلوریڈا روانگی سے پہلے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب آپ دوسرے فریق کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں تو سیزفائر نہیں کرتے ، لیکن تین دن کی مہلت اور ایران میں پراسرار اہلکار سے گفتگو کے بعد ٹرمپ کی سوچ بدل گئی۔ ٹینیسی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا وہ چاہتے ہیں معاملہ حل ہو اور ہم یہ کرنے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اب تو تجویز ہے کہ پاکستان رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان ملاقات کی میزبانی کرے ، مجوزہ ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کرسکتے ہیں۔

خلیجی ملکوں کی وارننگ کے بعد ٹرمپ مذاکرات پرمجبور
واشنگٹن، 24 مارچ (یو این آئی) ایران سے جنگ کے 24 ویں روز اچانک ٹرمپ نے کس کے دباؤ میں آ کر ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی ہے ۔ ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے جنگ 25 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے ۔ اس دوران کئی بار ایران کو تباہ کرنے اور جنگ جیتنے کے دعوے کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ کے 24 ویں بڑا یو ٹرن لے لیا۔ ٹرمپ جنہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت اور مہلت گزرنے کے بعد ایران کے تمام بجلی گھروں کو تباہ کرننے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم گزشتہ روز اچانک انہوں نے یہ دھمکی واپس لیتے ہوئے حملہ پانچ دن موخر کرنے اور ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی۔

ٹرمپ نے جنگ کی ذمہ داری وزیردفاع پر ڈال دی، بیانیہ پھر تبدیل
واشنگٹن، 24 مارچ (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر ڈال دی۔ امریکی ریاست ٹینیسی میں گزشتہ روز ایک گول میز اجلاس ہوا، جس میں ٹرمپ نے کہا کہ فوجی کارروائی کی حمایت سب سے پہلے پیٹ ہیگستھ نے کی تھی۔ انہوں نے پیٹ ہیگستھ کی موجودگی میں کہا کہ میرا خیال ہے آپ ہی بتائیں کیونکہ آپ نے ہی جنگ کا کہا تھا، آپ انہیں (ایران) جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ یہ بیان ایک ایسی جنگ کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس کے آغاز سے متعلق پہلے ہی متعدد متضاد دعوے سامنے آچکے ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ کیوں چھیڑی گئی؟ ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف عہدیدار اس سوال پر مختلف جوابات دیتے نظر آتے ہیں۔ کچھ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل خود ہی حملہ کرنے والا تھا، جس کے باعث امریکہ کی شمولیت ناگزیر ہوگئی، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے قریب تھا۔ ٹرمپ نے اپنے انداز میں اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پیٹ ہیگستھ اور جنرل کین کو فون کیا، میں نے اپنے بہت سے قابل لوگوں سے بات کی، ہمارے سامنے مشرقِ وسطیٰ میں ایک مسئلہ تھا، ہم وہاں جا کر ایک بڑا مسئلہ ختم کر سکتے تھے ۔ پیٹ ہیگستھ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے چند گھنٹے قبل ہی ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ خلیجی خطے میں ایران کے جوابی حملے غیر متوقع تھے ۔