صدر کیخلاف ایران کا تبصرہ مسترد: ترک وزیر خارجہ

   

انقرہ : ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے متنازعہ اشعار پڑھنے کے نتیجے میں انقرہ اور تہران کے مابین بحران پیدا ہونے کے بعد ترک وزیر خارجہ مولود جاوش اوگلو نے اپنے ایرانی ہم منصب کو خبردار کیا ہے کہ تہران کا صدر طیب ایردوآن کے بارے میں موقف ناقابل قبول ہے۔ تہران کی طرف سے ترک صدر کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔ ایرانی شوریٰ کونسل میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ مجتبیٰ ذوالنوری نے اردغان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’قفقاز‘‘ میں ترکی کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ذوالنوری نے الزام عاید کیا کہ اردغآن آذربائیجان، شام، عراق اور خلیج جیسے ممالک میں ترکی کے اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتا ہے۔قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے ترک صدر سے ان کے بیانات کو ایران کی سالمیت کے لیے جارحانہ قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انقرہ نے ایرانی وزارت خارجہ کو تہران میں ترک سفیر کو طلب کرنے کا جواب دیا تھا۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایرانی سفیر کو طلب کیا اور ان سے صدر رجب طیب اردغان کے خلاف تہران کی طرف سے لگائے گئے ‘‘بے بنیاد الزامات’’ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ایران کے العالم ٹی وی چینل نے بتایا کہ ایرانی وزارت خارجہ نے صدر اردغان کے متنازعہ ریمارکس کے بعد تہران نے انقرہ سے ’’فوری وضاحت‘‘ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔