حیدرآباد۔ 22 ڈسمبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت
5G کے نفاذ کو سکیورٹی خطرات کے پیش نظر دانستہ طور پر زیرالتواء رکھ سکتی ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ
5G نیٹ ورک کے مکمل یا جزوی استعمال کنندگان میں ساری نیٹ ورک کی کارکردگی میں خلل اندازی کی پریشان کن صلاحیت ہوسکتی ہے چنانچہ تلنگانہ جو
5G کے بعجلت ممکنہ نفاذ کیلئے اپنا منصوبہ مرتب کرچکا تھا، اب مرکز کے لیت و لعل سے اس کو کسی قدر مایوسی ہوئی ہے۔ پرنسپال سیکریٹری جئیش رنجن نے کہا کہ
5G کے نفاذ میں تاخیر اس بات کی واضح مثال ہے کہ جہاں ضابطے، ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’درحقیقت ایرٹیل، ووڈا فون، بی ایس این ایل اور جیو وغیرہ جیسے تمام ٹیلیکام آپریٹرس اس خطرے سے نمٹنے کے متبادل انتظامات سے لیس ہیں اور
5G
استعمال کرنے تیار ہیں ، اس ضمن میں ضابطوں کا انتظار کررہے ہیں۔ جئیش رنجن نے کہا کہ ٹیلیکام اُمور مرکز کے زیرنگرانی ہوتے ہیں۔ ریاستوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا چنانچہ وہ (ریاستیں) ’’انتظار کرو اور دیکھو ‘‘کی پالیسی اپنانے کے سواء اور کچھ نہیں کرسکتے۔
5جی اور سکیورٹی کے خطرات امریکہ میں
چینی ٹیلیکام ادارہ ہواوی پر امتناع
امریکہ اور کئی یوروپی ممالک میں اکثر پالیسی ساز اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ 4G کے لئے لڑائی اگرچہ خالصتاً تجارت، روزگار کی پیداوار منافع کے حصول پر مرکوز تھی لیکن 5G کا نفاذ جغرافیائی و سیاسی معاملات اور ٹیکنالوجی کی قیادت سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ نیز اس کا قومی علاقہ سے بھی تعلق رہتا ہے۔ امریکہ اور چند یوروپی ملکوں میں چین کا سرکردہ ٹیلیکام ادارہ ہواوی تنازعہ کا منبع بنا ہوا ہے چنانچہ امریکہ اور چند دیگر ممالک نے جاسوسی کے خطرات کے پیش نظر اس پر امتناع عائد کردیا تھا۔