شفاف خدمات پر زور، نارائن پیٹ میں تحصیلداروں کے ساتھ اجلاس، کلکٹر کا خطاب
نارائن پیٹ۔ 27 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع کلکٹر نارائن پیٹ پرتیک جین نے مشورہ دیا کہ ریونیو کا نظام ضلع انتظامیہ میں بہت اہم ہے اور ریونیو افسران کو شفاف طریقہ سے کام کرنا چاہیے اور لوگوں کو خدمات فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے ضلع کلکٹریٹ کے وی سی ہال میں ضلع کے تمام منڈلوں کے تحصیلداروں کے ساتھ محکمہ ریونیو سے متعلق پہلی جائزہ میٹنگ کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کلکٹر نے حکم دیا کہ ضلع میں زیر التواء اراضی کی درخواستوں کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرجا وانی پروگرام میں زیادہ تر شکایات اراضی کے مسائل پر آرہی ہیں، اور اگر ان کا منڈل سطح پر حل کیا جائے تو کلکٹریٹ میں آنے کی کوئی صورت حال نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سادہ زمین کی درخواستوں کو G O 76,77 کے مطابق قواعد کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں بغیر اجازت کے غیر قانونی طور پر نقل و حمل کی جانے والی ریت کی گاڑیوں کو نقل وحرکٹ پر نظر رکھتے ہو ئے ضبط کیا جائے ۔ کلکٹر نے تجویز پیش کی کہ ضلع میں سرکاری اراضی کی حفاظت کی جانی چاہئے اور سولر پاور پلانٹس اور ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ رہائشی اسکول کی تعمیر کے لئے سرکاری اراضی کی نشاندہی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حق اطلاعات قانون کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کا 30 دنوں کے اندر جواب دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کو واضح معلومات دی جائیں اور انہیں اپیل کا موقع نہ دیا جائے۔ کلیانہ لکشمی؍ شادی مبارک اسکیموں کے لیے زیر التواء درخواستوں کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر اپریل میں شروع ہو جائے گا، اور اگر اس وقت تک محکمہ ریونیو میں تمام زیر التوا کام ختم ہو جائیں تو ایس آئی آر شروع ہونے کے بعد کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔ اس میٹنگ میں ریونیو ایڈیشنل کلکٹر سرینو، آر ڈی او رام چندر نائک، کلکٹریٹ اے او سریدھر، سی سیکشن افسران جیاسودھا، اکھل پرسنا، اور ضلع کے تمام منڈلوں کے تحصیلداروں نے شرکت کی۔