ضلع حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقوں میں 3986 پولنگ مراکز

   

1688 عمارتوں کا انتخاب ، زیادہ تر پولنگ مراکز گراونڈ فلور پر قائم کئے جائیں گے
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے لیے ضلع حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقوں کے 1688 عمارتوں میں 3986 پولنگ مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس میں 37 مقامات پر 9 اسمبلی حلقوں میں 6 پولنگ بوتھس ہوں گے 48 مقامات پر اسمبلی حلقوں میں پانچ پولنگ اسٹیشن ہوں گے ۔ 212 مقامات پر 15 حلقوں میں چار پولنگ بوتھس ہوں گے ۔ 15 حلقوں کے 306 مقامات پر تین پولنگ بوتھ ہوں گے ۔ تمام حلقوں میں 644 عمارتوں میں دو پولنگ اسٹیشنس ہوں گے ۔ 441 عمارتوں میں حیدرآباد ضلع کے تمام 15 حلقوں میں ایک ایک پولنگ اسٹیشن ہوگا ۔ جوبلی ہلز اور خیریت آباد اسمبلی حلقوں میں 6 عمارتوں میں سے ہر ایک کے قیام کے لیے شناخت کی گئی ہے ۔ جہاں 6 یا اس سے زیادہ پولنگ بوتھس ہوں گے ۔ اس طرح مشیرآباد میں پانچ عمارتوں اور ملک پیٹ و یاقوت پورہ میں 6 سے زیادہ پولنگ بوتھس کے لیے چار عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس طرح مشیر آباد میں تقریبا 9 عمارتوں میں سے ہر ایک میں پانچ پولنگ بوتھس ، اسمبلی حلقہ جات سکندرآباد اور کاروان میں چھ عمارتیں اور پانچ بوتھس کے قیام کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ مشیر آباد 8 ، ملک پیٹ میں 16 ، عنبر پیٹ 13 ، خیریت آباد 7 ، جوبلی ہلز 14، صنعت نگر 22 ، نامپلی 18 ، کاروان 18 شامل ہیں ۔ گوشہ محل 17 ، چارمینار 9 ، چندرائن گٹہ 29 ، یاقوت پورہ 19 ، بہادر پورہ 14 ، سکندرآباد کنٹونمنٹ 8 ۔ انتخابی تیاریوں میں مصروف جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنس کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کی گنجائش ہے ۔ اگر ایک پولنگ بوتھ میں 1000 سے زیادہ ووٹ رہنے کی صورت میں مزید معاون پولنگ اسٹیشنس قائم کئے جائیں گے ۔ انتخابی فہرستوں ، دعوؤں اور اعتراضات کے تسلسل اور 31 اکٹوبر تک جو بھی شکایتیں وصول ہوں گی ۔ اس کا جائزہ لیا جائے گا اور 15 نومبر تک اس کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 1688 عمارتوں میں سب سے زیادہ تعداد جوبلی ہلز اور یاقوت پورہ ہر ایک میں 133 ہے ۔ اس کے بعد چندرائن گٹہ 124 ، ملک پیٹ 122 ہیں ۔ سب سے کم پولنگ عمارتوں کی شناخت چارمینار 95 اور عنبر پیٹ میں 104 ہے ۔ انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشن زیادہ تر معاملات میں عوامی عمارتوں میں واقع ہیں ۔ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پولنگ اسٹیشن عمارت کے گراونڈ فلور پر موجود رہے تاکہ معمرین اور معذور دائے دہندوں کو حق رائے دہی سے استفادہ میں آسانی ہوسکے ۔۔ ن