سابق ایم ایل سی فاروق حسین کی اپیل، بلدی حلقوں میں بی آر ایس کو کامیاب کرنے کی خواہش
میدک ۔ 23 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ میں اضلاع اور منڈلوں کی از سر نو تشکیل سے متعلق چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے اعلان کیا گیا جس میں میدک ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اضلاع سدی پیٹ اور سنگاریڈی میں ضم کرکے میدک ضلع برخواست کرنے سے متعلق فیصلہ لیا جارہا ہے۔ محمد فاروق حسین سابق ایم ایل سی نے میدک بی آر ایس پارٹی دفتر میں نمائندہ سیاست محمد فاروق حسین سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سالوں سے میدک کو ضلع ہیڈکوارٹر بنانے کا پرزور مطالبہ کیا جاتا رہا۔ بی آر ایس حکومت میں وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ ریاست کے اضلاع میں اضافہ کرتے ہوئے 33 ضلع تشکیل دیئے اور میدک ضلع تشکیل پایا اور اب ریونت سرکار اضلاع کی تعداد میں کم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ریونت ریڈی کے اس فیصلہ سے تلنگانہ کی عوام کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ فاروق حسین جو بلدیہ میدک کے انتخابات کے سلسلہ میں پارٹی کی جانب سے انچارج مقرر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ میدک سے 32 وارڈس میں بہتر مظاہرہ کے ذریعہ بلدیہ پر گلابی جھنڈا لہرایا جائے گا۔ انہوں نے میدک کے رائے دہندوں بالخصوص اقلیتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے تمام بلدی حلقوں میں بی آر ایس کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ فاروق حسین نے ضلع میدک کی عوام سے کہا کہ میدک ضلع کو برخواست کرنے سے پہلے احتجاج کا آغاز کردیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ جج کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا حکومت نے اعلان کیا ہے اور یہ کمیٹی بلدی انتخابات کے بعد اضلاع کا دورہ کرکے جائزہ لے گی اور عوام سے ملاقاتیں بھی کرے گی۔ عوام کو چاہئے کہ کمیٹی کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران میدک ضلع ہیڈکوارٹر کی منسوخی اور اضلاع کی تقسیم کی مخالفت کریں۔