Saturday , December 5 2020

طاقت کے بل پر جموں و کشمیر کے عوام سے انتقام لیا جا رہا ہے

۔370 کی منسوخی کے بعد عسکریت پسندی میں اضافہ ، پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا مرکزی حکومت پر الزام

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت طاقت کے بل پر جموں کشمیر کے لوگوں سے انتقام لے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین اور جھنڈے ، جو ہمیں ملک کے آئین نے دیے ہیں، کو چھینا گیا اور اب آہستہ آہستہ ہم سے دوسری چیزیں چھینی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کہیں ڈاکو آکر لوٹ مچاتے ہیں اسی طرح جموں وکشمیر کو بھی دو دو ہاتھوں لوٹا جا رہا ہے ۔موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار ایک نجی نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹریو کے دوران کیا ہے ۔انہوں نے کہا: ‘ہم سے ہمارے آئین اور جھنڈے کو چھینا گیا، یہ ہمیں ملک کے آئین نے دیے تھے اور حکومت طاقت کے بل پر جموں و کشمیر کے لوگوں سے انتقام لے رہی ہے ‘۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ڈاکو کہیں آتے ہیں اور لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں اسی طرح جموں وکشمیر کو بھی دو دوہاتھوں لوٹا جا رہا تھا۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گپکار اعلامیہ کے تحت ہمارے اتحاد کا مقصد حصول اقتدار یا انتخابات نہیں ہیں بلکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو چھینی گئی شناخت کی بحالی کے لئے لڑنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کا تعلق ہے تو ہم فرقہ پرست طاقتوں اور ان کے حواریوں کو دور رکھنا چاہتے ہیں۔موصوفہ نے کہا کہ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ سے وابستہ پارٹیاں اپنی ساکھ بچانے کی بجائے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے برسر میدان ہیں۔انتخابات میں حصہ لینے پر پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے ، میں کہتی ہوں کہ میں خود تب تک انتخابات میں حصہ نہیں لوں گی جب تک ہمارے آئین اور جھنڈے کو بحال نہ کیا جائے ‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی خود ملک کے تمام ذمہ دار اداروں کے ساتھ الائنس میں ہے لیکن ہمارے الائنس کے خلاف ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی جو ہمیں کوریشن کا سبق پڑھا رہے ہیں ان کی حالت پہلے کیا تھی اور آج دیکھئے ان کے دفتر کیسے ہیں اور وہ یہاں کتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔موصوفہ نے کہا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد یہاں ملی ٹنسی بڑھ رہی ہے اور ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سیکورٹی تھرٹ کے نام پر بند رکھا جا رہا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT