نئی دہلی : افغانستان میں گزشتہ چار روز سے تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں اور ملک پر طالبان کا کنٹرول قائم ہوجانے سے مودی حکومت ایسا لگتا ہیکہ تشویش میں مبتلا ہوچکی ہے۔ حکومت کی فکرمندی اس بات سے ظاہر ہیکہ وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں لگاتار دوسرے روز سیکوریٹی میٹنگ منعقد کرتے ہوئے افغان صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کابینی وزراء و دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ گزشتہ روز غوروخوض کے بعد چہارشنبہ کو کابینی کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کی میٹنگ منعقد کی گئی جس میں حکومت کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح ہندوستانی شہریوں کو آئندہ چند یوم میں افغانستان سے نکال لیا جائے اور وہاں مستقل طور پر مقیم ہندو اور سکھ برادریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے درمیان 24 گھنٹے میں یہ دوسری سی سی ایس میٹنگ ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ جنگ سے تباہ حال ملک میں ہنوز موجود ہندوستانیوں کے عاجلانہ تخلیہ کو آئندہ چند یوم میں مکمل کرلیا جائے۔ نیز ان تمام افغان برادران اور دیگر کو تمام ممکنہ فراہم کی جائے جو ہندوستان سے اعانت کررہے ہیں۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ، وزیرداخلہ امیت شاہ، وزیرفینانس نرملاسیتارمن اور وزیرامورخارجہ ایس جئے شنکر آج کی میٹنگ میں شریک ہوئے۔ اگرچہ میٹنگ کی تمام تفصیلات سے واقف نہیں کرایا گیا ہے لیکن معلوم ہوتا ہیکہ وزیراعظم نے افغانستان کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے منگل کو طئے کردہ حکومت کی حکمت عملی کا جائزہ لیا ہے۔ وہ پہلے ہی عہدیداروں کو ہدایت دے چکے ہیں کہ ہندوؤں اور سکھوں کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور عہدیداروں کو کابل میں قائدین کے ساتھ ربط میں رہنے کیلئے کہا ہے۔ حکومت کا ارادہ ہیکہ افغانستان سے ہندوستان کو آنے والے ہندوؤں اور سکھوں کو رفیوجی کا موقف دیا جائے اور بعد میں انہیں حالیہ شہریت ترمیمی قانون 2019ء کے تحت شہریت دی جاسکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ایسے ہندوؤں اور سکھوں کی ویزا درخواست سے نئے ایمرجنسی ویزا زمرہ کے تحت ترجیحی طور پر نمٹے گی۔ حکومت کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ نے افغانستان میں ہندوستانی کمپنیوں اور پبلک سیکٹر کے اداروں کی جانب سے جاری کئی پراجکٹوں نیز ہندوستانی اثاثہ جات سے متعلق مسائل پر بھی غوروخوض کیا۔ حکومت ہند نے افغانستان پر طالبان کے مکمل کنٹرول قائم ہوجانے کے تناظر میں خارجہ پالیسی کے اعتبار سے بھی پڑوسی ملک کی سیاسی تبدیلیوں پر قریبی نظر رکھی ہے۔ قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول، پرنسپل سکریٹری پی کے مشرا، معتمد خارجہ ہرش وردھن شرنگلا اور معتمد کابینہ راجیو گوبا بھی چہارشنبہ کی میٹنگ میں شریک ہوئے۔