طالبان سے افغان شہریوں پر سفری پابندیاں ہٹانے امریکہ کا مطالبہ

   

واشنگٹن : طالبان کی جانب سے نئی سفری پابندیوں کے نفاذ اور افغانستان سے انخلا کی پروازوں کی بندش کے بعد امریکی حکام طالبان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہوئے ان افغان شہریوں کو جو ملک سے نکلنا چاہتے ہیں محفوظ راستہ فراہم کریں۔پچھلے برس اگست میں افغانستان میں قبضے کے بعد طالبان نے بین الاقوامی مطالبوں کو مانتے ہوئے اقرار کیا تھا کہ وہ ایسے تمام افراد کو جن کے پاس مکمل دستاویزات ہیں، ملک سے نکلنے کی اجازت دیں گے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے چہارشنبہ کے روز کہا تھا کہ حکام نے ان پابندیوں سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار طالبان سے کیا ہے۔یہ تبصرہ ایسے موقع پر سامنے آیا جب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان میں حکام کسی وجہ کے بغیر افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔طالبان کے اس بیان پر تنقید کے بعد ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ان کا مطلب اس سے صرف یہ تھا کہ جن افغان شہریوں کے پاس مکمل قانونی دستاویزات نہیں ہیں اور وہ غیر قانونی طور پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں روکا جائے گا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ وہ شہری جن کے پاس مکمل دستاویزات ہیں اور انہیں باہر کے ملک سے دعوت بھی مل چکی ہے کہ وہ ملک سے باہر سفر بھی کر سکتے ہیں اور واپس بھی آ سکتے ہیں۔