عالمی منڈی میں چاول کی قیمتیں بلند ترین سطح پر

   

نیویارک : ایف اے او کے مطابق ہندوستان کی طرف سے چاول کی برآمد پر پابندی اس غذا کی عالمی سطح پر بلند قیمتوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہندوستان نے جولائی میں باسمتی کے علاوہ سفید چاول کی برآمدات پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت سے متعلق ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی طرف چاول کی برآمد پر پابندی کے نتیجے میں عالمی سطح پر چاول کی قیمت پندرہ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایف اے او نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگست میں خوراک کی عالمی قیمتوں میں کمی کے دوران، چاول کی قیمتوں میں جولائی کے مقابلے میں 9.8 فیصد اضافہ ہوا، جو، ہندوستان کی جانب سے انڈیکا، سفید چاول کی برآمدات پر پابندی کے نتیجے میں تجارتی رکاوٹوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایف اے او کے مطابق، پابندی کی مدت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور برآمدی پابندیوں پر تشویش چاولوں کی سپلائی فراہم کرنے والوں کی طرف سے اس اناج کے ذخائر اپنے قابو میں رکھنے، معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کرنے یا قیمتوں کی پیشکش کرنے سے روکنیکا سبب بنتی ہے، اس طرح زیادہ تر تجارت کو چھوٹے حجم تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ چاول عالمی خوراک کا ایک اہم جزو ہے اور عالمی منڈیوں میں اس کی قیمتیں کووِڈ انیس کی عالمی وبا، یوکرین میں جنگ اور ایل نینو موسمی رجحان کے پیداواری سطحوں پر پڑنے والے اثرات کے تناظر میں بڑھ گئی ہیں۔