عالم اسلام کو اردغان سے زیادہ بہتر قیادت کی ضرورت

,

   

صدر ترکی مسلم دنیا کی نمائندہ شخصیت نہیں ، عصری دنیا کے خلیفہ بن کر اُبھرنے کی کوشش :فرزانہ حسان

قاہرہ 7 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر ترکی رجب طیب اردغان نے خود کو عالم اسلام کا ترجمان سمجھ لیا ہے اور وہ عصری دنیا کے علامتی خلیفہ بن کر اُبھر رہے ہیں۔ وہ بعض مسلم اکثریتی ممالک میں عوام الناس کے پسندیدہ لیڈر بن رہے ہیں لیکن وہ مسلم دنیا کے واحد نمائندہ نہیں ہوسکتے۔ فرزانہ حسان نامی مصنفہ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ عالم اسلام کو اردغان سے بہتر قیادت کی ضرورت ہے۔ اردغان نے عالم اسلام کے نمائندہ کے طور پر ہی ڈونالڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ منصوبہ کو مسترد کردیا۔ یہ سراسر ناقابل قبول ہے اور عرب ملکوں کے حکمرانوں کو جنھوں نے ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ منصوبہ کی حمایت کی ہے غدار قرار دیا۔ جیسے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور مصر نے ٹرمپ کے منصوبہ کو محتاط طریقہ سے قبول کیا تھا۔ اردغان کا بیان حماس پر ان کے موقف کے باعث مشکل سے دوچار ہورہا ہے۔ اردغان خود کو عالم اسلام کی قیادت کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ لیکن عالم اسلام کو اِن سے بھی بہتر ذہین فہم و فراست اور تدبر کے حامل قائد کی ضرورت ہے۔ اردغان ایسے لیڈر ہیں جو حماس کی جارحیت کو منصفانہ قرار دیتے ہیں۔ فلسطینی عوام کے حقوق اور کاز کے لئے لڑنے والے جنگجوؤں کی کارروائیوں کو قبول کرتے ہیں۔ فلسطینی عوام خود اپنی سرزمین پر اسرائیلی فوج سے مزاحمت کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ اردغان نے حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ سے ملاقات کی تھی اور اِن کی تنظیم کی بھرپور حمایت کا عہد کیا تھا۔