عبادت صوم کے باعث روح کا نفس پر غلبہ ہوتا ہے جو اطاعت حق تعالیٰ کیلئے ضروری ہے

مسجد محبوب شاہی مالا کنٹہ ،مسجد حسینی بنجارہ ہلز،مسجد رضیہ حسین شرفی چمن اور حمیدیہ میں ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی کے خطابات
حیدرآباد ۔10؍مئی ( پریس نوٹ) ۔ روزہ فرض عبادت اور دین حق اسلام کا اساسی رکن ہے اللہ تعالیٰ نے روزوں کو اپنے ایمان والے بندوں پر سال بھر میں ایک ماہ رمضان مبارک کی حد تک فرض فرمایا ہے چوں کہ سال کے گیارہ مہینے انسان مرغن غذاؤں اور مقویات سے جسم کو توانا اور نفس کو قوت پہنچاتا رہتا ہے جس کے باعت روح پر اس کا مسلسل دبائو رہتا ہے اور نفس کا غلبہ قائم و برقرار رہتا ہے لیکن جب ماہ رمضان آتا ہے تو اہل ایمان فرض روزوں کے ذریعہ روح کی تقویت و لطافت کا سامان کرتے ہیں اوقات صوم میں کھانے پینے اور جماع سے اجتناب نفس کے ضعف و ناتوانی کا باعث ہیں جب نفس کمزور ہوتا ہے تو روح کا اس پر غلبہ ہو جاتا ہے جو بندہ کو مائل بہ خیر و صالحیت کرنے کا موجب ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوے ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے 4؍رمضان المبارک کو قبل نماز جمعہ مسجد محبوب شاہی مالاکنٹہ روڈ، روبرو معظم جاہی مارکٹ ، مسجد حسینی بنجارہ ہلز روڈ نمبر 3، بعد نمازجمعہ مسجد رضیہ حسین شرفی چمن اور بعد نماز عصر ’’حمیدیہ’’ میں روزہ دارمصلیوں کے اجتماعات سے خطاب کا شرف حاصل کیا۔ وہ اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل( انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ تیئسویں سالانہ حضرت تاج العرفاء سیف شرفی ؒ یادگار خطابات کے چوتھے دن کے اجلاسوں سے شرف تخاطب حاصل کر رہے تھے۔ انھوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوے بتایا کہ روزہ روح کو غالب اور نفس کو مغلوب کرنے کا سبب ہے روزہ میں نفس کی ایک بات نہیں چلتی۔ حرص، خواہشات، معصیت، برائی، ظلم، زیادتی، سرکشی، نافرمانی وغیرہ کا ہر امکان مٹ جاتا ہے۔ اخلاص عبادت، ہر نفسانی خواہش اور دبائو کو بے اثر کرکے بندگی کے لطف سے مالا مال کرتا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ روزہ صرف انسانوں کے ساتھ خاص ہے ان میں بھی صرف اہل ایمان کو اس عبادت کا شرف حاصل ہے۔ دیگر مخلوقات معبود حقیقی کی عبادت مختلف انداز سے ذکر و تسبیح وغیرہ سے کرتے ہیں لیکن روزہ دیگر عبادات کے ساتھ انسان ہی ادا کرتا ہے اس عبادت خاص کے سبب بھی انسان کے کلاہ امتیاز میں طرہ عبدیت نمایاں نظر آتا ہے۔ روزہ ظاہر بدن کی اصلاح کے ساتھ باطنی تصفیہ کرتا ہے روح کو پاکیزگی ولطافت سے مزین کرکے قرب حق کے اعزاز پانے کے قابل بناتا ہے روزہ دار کی بوے دہن مشک سے کہیں زیادہ پسندیدہ ہے روزہ دار کا سانس لینا ذکر، خاموشی تسبیح اور نیند بجاے خود عبادت ہے۔ظاہری اور باطنی گناہوں اور آلائشوں سے دور اور پاک و صاف ہو کر صحیح معنوں میں باعمل مسلمان ، قابل تقلید نمونہ بنی نوع انسان کے سامنے پیش کرتے ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عبادات و صالحیت، فرائض کی ادائیگی اور حقوق کی تکمیل، اعلی اخلاقی تربیت اور مومنانہ کردار کی جو مشق رمضان مبارک میں ہوتی ہے اس کو عملاً تواتر کے ساتھ آنے والے گیارہ مہینوں اور پیش آئندہ ماہ و سال اور ساری زندگی جاری رکھیں تاکہ مقاصد حیات پورے ہو سکیں اور خالق کائنات رب العلمین کے افضال و اکرام کے دائماً مستحق بنے رہیں اور اُخروی نعمتوں سے سرفراز ہو سکیں۔

TOPPOPULARRECENT