عتیق احمد کے جیل میں بند بیٹوں عمر اور علی کی مشکلات میں اضافہ

   

اتر پردیش : اتر پردیش کے پریاگ راج میں مافیا عتیق احمد کے خاندان کے خلاف ایک اور کارروائی کی گئی ہے۔ جیل میں بند عتیق احمد کے دو بڑے بیٹوں کا ایک اور کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ لکھنو جیل میں بند محمد عمر اور پریاگ راج جیل میں بند علی احمد کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ دونوں بیٹوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالتی حراست میں ریمانڈ کیلئے پیش کیا گیا۔عمر اور علی کے خلاف اغوا اور بھتہ مانگنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مافیا قرار دیے گئے والد عتیق احمد کے قتل کے بعد قریبی بلڈر نے نامزد مقدمہ درج کرایا تھا۔ لکھنو کے بلڈر محمد مسلم نے 26 اپریل کو کیس درج کرایا تھا۔ پریاگ راج کے خلد آباد پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔عتیق کے دونوں بیٹوں کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی ساتھیوں اسد کالیا، گنر احتشام کریم، محمد نصرت اور اجے کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ اغوا، 15 کروڑ کی جائیداد نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور 1 کروڑ 20 لاکھ روپے بھتہ خوری کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ تاہم شکایت کنندہ بلڈر محمد مسلم بھی عتیق گینگ کا رکن ہے اور اس کے خلاف بھی کئی مقدمات درج ہیں۔حال ہی میں محمد مسلم اور عتیق کے بیٹے اسد احمد کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ مسلم نے عتیق کے بیٹوں اور دیگر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 386، 307، 147، 364، 504 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کیس میں عتیق کے بیٹوں کے ساتھ ساتھ کئی ملزمین جیل میں ہیں۔ پولیس کی جانب سے ایک اور ملزم نصرت کو گرفتار کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ نئے کیس میں جوڈیشل ریمانڈ سے عتیق احمد کے بیٹوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔