حیدرآباد۔29 ۔اکتوبر (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے تلنگانہ کو آندھراپردیش میں ضم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج منظم کیا اور عثمانیہ یونیورسٹی این سی سی گیٹ کے روبرو جگن اور کے سی آر کے علامتی پتلے نذر آتش کئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین کے مانوتا رائے نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر اور جگن دوبارہ متحدہ آندھراپردیش کے قیام کی تیاری کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کے سی آر نے آندھراپردیش کی کئی ناانصافیوں پر خاموشی اختیار کرلی اور اب تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے قیام کا اعلان کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرائی حکمرانوں کی ناانصافیوں کے خلاف علحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک شروع کی گئی جس میں سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی جان کی قربانی دی۔ کے سی آر تلنگانہ عوام اور تلنگانہ تلی سے دھوکہ کر رہے ہیں۔ دوبارہ متحدہ آندھراپردیش کی تشکیل شہیدان تلنگانہ کی توہین ہے جنہوں نے روزگار ، پانی اور وسائل میں ناانصافی کے خلاف احتجاج کیا تھا ۔ عثمانیہ یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دونوں حکومتوں کو انتباہ دیا کہ وہ تلنگانہ کے خلاف سازش ترک کردیں ورنہ طلبہ نئی تحریک کا آغاز کریں گے ۔ احتجاج میں جے اے سی کے قائدین کے پرتاپ ریڈی ، ڈاکٹر جی سرینواس ، ڈی سری ہری نائک ، چرن کوشک یادو ، ڈی ناگراج گوڑ، بی نائک ، ریڈی سرینواس اور مدن کارتک احتجاج میں شریک تھے۔ ر