عدالت اور کمیشن میں پولیس کے متضاد دعوؤں سے الجھن

   

حیدرآباد۔31 اگسٹ(سیاست نیوز) عدالت اور کمیشن میں پولیس کے متضاد دعوے پولیس کو جھوٹا ثابت کرنے لگے ہیں۔ محکمہ پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ کی جانب سے انکاؤنٹر واقعہ کی تحقیقات کر رہے کمیشن اور ہائی کورٹ میں سی سی ٹی وی کیمروں کے سلسلہ میں متضاد دعوے کارکردگی کو متاثر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ شاد نگر میں عصمت ریزی کے 4ملزمین کے انکاؤنٹر کے سلسلہ میں کمیشن کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کئے جانے پر اس مقدمہ کے تحقیقاتی عہدیدار جے سریندر ریڈی ایڈیشنل ڈی سی پی رچہ کنڈہ نے کمیشن کے روبرو دیئے گئے بیان میں کہا کہ انہوں نے انسپکٹر شادنگر سے واقعہ کی سی سی ٹی وی زبانی طور پر طلب کی تھی لیکن انہیں بتایاگیا کہ 29نومبر 2019سے 10ڈسمبر 2019کے درمیان سی سی ٹی وی کیمرے غیر کارکرد تھے ۔ تحقیقاتی افسر نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی دستاویز تیار نہیں کئے ہیں اور نہ ہی انسپکٹر کا بیان قلمبند کیا گیا ہے۔قبل ازیں کمیشن کو 13 مارچ 2020 کو روانہ کئے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ شاد نگر پولیس اسٹیشن میں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ موجود نہیں ہے۔اسی طرح 18جون 2021کو اڈہ گڈور پولیس اسٹیشن میں دلت خاتون کی پولیس تحویل میں ہوئی موت کے سلسلہ میں ہائی کورٹ میں پولیس کی جانب سے متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں ۔ہائی کورٹ میں عدالتی تحویل میں دلت خاتون مریمما کی موت کے سلسلہ میں سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کئے جانے پرپولیس نے کہا کہ پولیس اسٹیشن میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔جولائی کی رپورٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس اسٹیشن میں سی سی ٹی وی کیمرہ موجود نہیں ہے لیکن اگسٹ میں پولیس کی جانب سے داخل کئے گئے بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ پولیس اسٹیشن میں موجود کیمرہ غیر کارکرد تھا۔محکمہ پولیس کے عہدیداروں نے عدالت کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج طلب کئے جانے پر عدالت کو ابتداء میں یہ بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں سی سی ٹی وی کیمرہ موجود نہیں ہے لیکن دوبارہ عدالت کی جانب سے فوٹیج کے استفسار پر یہ کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی موجود ہے لیکن تکنیکی خرابی کے سبب غیر کارکرد ہے۔پولیس نے عدالت کو بتایا کہ بھونگیر کے حدود میں موجود تمام پولیس اسٹیشنوں میں ستمبر 2020میں ہی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی جاچکی ہے اور ان کیمروں میں 20یوم کا ڈاٹا محفوظ رکھنے کی گنجائش موجود ہے لیکن اڈہ گڈور پولیس اسٹیشن میں سی سی ٹی وی کیبل میں 27مئی کو آئی خرابی کے سبب وہ تکنیکی طور پر غیر کارکرد تھا اور اس کی مرمت کے بعد یہ 25 جون سے کارکرد ہوا ہے۔دلت خاتون کی پولیس تحویل میں موت کے علاوہ شادنگر کے حدود میں عصمت ریزی کے 4 ملزمین کے انکاؤنٹر کے معاملہ میں پولیس کی جانب سے اختیار کردہ موقف اور متضاد دعووں سے یہ واضح ہورہا ہے کہ پولیس کی جانب سے حقائق کو چھپانے کی کوشش میں اس طرح کے بیانات عدالت اورکمیشن میںدیئے جا رہے ہیں جو کہ پولیس کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں اور الجھن کا باعث ہیں ۔