اقتدار کے اشارے پر یو پی پولیس دلتوں، پسماندہ اور دیگر طبقے کے لوگوں کا استحصال کررہی ہے ،کئی واقعات کا حوالہ
نئی دہلی، یکم اکتوبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سخت تبصروں سے اتر پردیش پولیس کے طرزِ عمل کی حقیقت سامنے آ گئی ہے اور اس کی تفتیش نیز حراست میں لوگوں کے ساتھ سلوک پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے جمعرات کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ سپریم کورٹ اور الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش پولیس کے طرزِ عمل پر انتہائی سخت تبصرے کیے ہیں۔ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی بنچ نے مجرمانہ معاملات کی تفتیش میں پولیس کے طرزِ عمل پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور یہاں تک کہا کہ اتر پردیش پولیس کو تحلیل کر دینا چاہیے ۔مسٹر گوتم نے کہا کہ عوام نے موٹر سائیکل سوار ایک مجرم کو پکڑ کر اتر پردیش پولیس کے حوالے کیا، لیکن پولیس نے ڈائری میں اسے ‘نامعلوم’ لکھ دیا۔ معاملہ عدالت میں پہنچنے پر سی سی ٹی وی فوٹیج مانگی گئی، تو جواب دیا گیا کہ کیمرے بند ہیں، جبکہ ادائیگی ہونے کے بعد بھی کئی علاقوں میں سی سی ٹی وی نہیں لگائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش پولیس کو ‘جھوٹوں کا ٹولہ’ تک کہہ دیا اور اس معاملے میں تھانہ انچارج پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ کیا ہر معاملے میں تفتیش کرائم برانچ یا مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو دینی پڑے گی۔کانگریس رہنما نے کہا کہ اقتدار کے اشارے پر اتر پردیش پولیس دلتوں، پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقے کے لوگوں کا استحصال کر رہی ہے ۔ انہوں نے اناؤ میں عصمت دری کی متاثرہ کے والد کی پولیس حراست میں پٹائی سے موت، آگرہ میں دلت صفائی ملازم ارون والمیکی، لکھیم پور کھیری میں دلت آسا رام اور لکھنؤ میں دلت نوجوان امن گوتم کی حراست میں موت سمیت کئی معاملات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ اعظم گڑھ میں دلت نوجوان سمی کمار، گونڈہ میں سنجے کمار سونکر اور بلیا میں دلت مزدور کمجی گونڈ کی بھی پولیس حراست میں موت ہوئی، جبکہ پریاگ راج میں دلت کسان دیوی شنکر کا قتل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار میں مجرموں اور اقتدار کے درمیان کا گٹھ جوڑ دلتوں، متاثرین اور مظلوموں کے خلاف نیز بااثر لوگوں کے لیے کام کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں اوسطاً ہر دن نو قتل، اقدامِ قتل کے 10 معاملے ، عصمت دری کے نو معاملے ، 33 اغوا اور تقریباً 235 پرتشدد جرائم ہو رہے ہیں۔مسٹر گوتم نے کہا کہ اتر پردیش کی گنگا جمنی تہذیب کو یوگی حکومت نے برباد کر دیا ہے ۔ کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بتانا چاہا کہ ووٹروں کے نام کاٹ کر غلط کیا جا رہا ہے ، لیکن ان کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے ان کا پولیس کے ذریعے استحصال کرایا جا رہا ہے ۔
قانون کا غلط استعمال کر کے انہیں ستایا جا رہا ہے ۔ کانگریس آدیواسیوں اور دلتوں کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف لڑتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر رہتے ہوئے اور بعد میں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی نیز انہیں تاحیات قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔