دینی مدارس کی بے لوث خدمات مثالی ، مدرسہ نعمانیہ سنگاریڈی میں جلسہ ، جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور دیگر کا خطاب
سنگاریڈی :مدرسہ عربیہ نعمانیہ ہاوزنگ بورڈ کالونی راجم پیٹ روڈ سنگاریڈی میں مولانا مفتی محمد اسلم سلطان قاسمی ناظم مدرسہ و صدر جمعیت العلماء ہند ضلع سنگاریڈی کی زیر صدارت " اردو کی ترقی و ترویج میں دینی مدارس کا کردار" کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا جس میں جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روز نامہ سیاست نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست نے مخاطب کرتے ہوے کہا کہ اردو کے فروغ و ترویج کے لیے دینی مدارس نے بے لوث خدمات انجام دی ہے جس کی کوئی مثال نھیں ہے۔ دینی مدارس اردو کے قلعہ کے مانند ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی پلی اور بڑھی اور اردو بلا تفرق مذہب و ملت ہر فرد کی زبان ہے۔ اردو زبان کی شائستگی اور مٹھاس کا ہر فرد قائل و دلداہ ہے لیکن پڑوسی ملک میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملتے ہی ہندوستان میں اردو سے بے اعتنائی شروع ہوئی اور اس کو مسلمانوں کی زبان ہونے کا لیبل زبردستی چسپاں کردیا گیا۔ اس کے باوحود اردو زبان نے ترقی کی اور آج عالمی سطح پر اردو کا گھر ہندوستان کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور تعصبیت کا ہے۔ سماج میں شدت کے تعصبیت کا زہر گھولا جا رہا ہے مسلمانوں کو اس کا جواب اپنے تدبر اور فراست سے دینا چاہئے۔ مسلمان اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے کشادہ دلی اور عفو و درگذر سے منافرت کا جواب دیں۔ اپنے حسن اخلاق اور اسلامی کردار سے براداران وطن کو متاثر کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی کردار کے ساتھ اخبار میں خاموشی کے ساتھ اسلام کو پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم جذباتی ہوکر فرقہ پرستوں کی سازشوں کے جال میں پھسنے کی بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوے ان سازشیوں کو سمجھ کر اس کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں میں اسلامی کردار کا فقدان ہے۔ نئی نسل کی اسلامی عملی تربیت نھیں ہو رہی ہے۔ زمانہ قدیم میں گھر کے بڑے بزرگ بچوں کے ساتھ وقت گذار کر' ان سے کام لیکر اور نصیحت و ڈانٹ ڈپٹ کرکے ان کی عملی تربیت کیا کرتے تھے لیکن آج ہر کوئی سیل فون ' ٹی وی اور کمپیوٹر میں مصروف ہے اور گھروں سے عملی تربیت کا ماحول ختم ہوگیا۔ دنیاوی امور کو ہی سب کچھ سمجھ کر مکمل وقت اسی پر صرف کیا جا رہا ہے جو کہ غلط ہے۔ بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ انھیں اردو زبان پڑھنا اور لکھنا سکھانا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ دینی مدارس کے طلباء اسلام کے سفیر ہیں۔ دین کا کام کرنا صرف دینی مدارس اور علماء کی ہی ذمہ داری نھیں ہم سب کو آپسی تعاون کے ساتھ دین کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی اور قرآن کریم کی تلاوت کا ہر مسلمان کو اہتمام کرنا چاہئے۔ اللہ رب العزت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو معافی پسند ہے چناچہ ہم سب کو معاف کرنے والا بننا چاہئے۔ معافی سے رشتہ استوار اور مضبوط ہوتے ہیں۔ غصہ حرام ہے فتنہ فساد اور ہر قسم کے نقصان کی جڑ ہے جبکہ صبر میں خیر ہی خیر ہے۔جناب عامرعلی خان نیوز ایڈیٹر سیاست نے مدرسہ عربیہ نعمانیہ کے لیے دس ہزار روپیہ عطیہ دینے کا اعلان کرتے ہوے مدرسہ انتظامیہ سے خواہش کی کہ اس رقم کو مدرسہ کے ہونہار طلباء میں تقسیم کر دیں۔ مولانا مفتی محمد اسلم سلطان قاسمی ناظم مدرسہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ رب العزت نے اپنے مخلوقات میں اشرف المخلوقات انسان کو بنایا اور بول چال کے لیے زبان کا عظیم تحفہ عنایت فرمایا۔ ہم کو کسی سے ربط اور تعلق پیدا کرنا ہو یا پھر اپنی بات پہنچانے کیلئے زبان ہونا ضروری ہے اور دنیا کا ہر فرد کوئی نا کوئی زبان بولتا اور سمجھتا ہے۔ اسی طرح ہماری مادری زبان اردو ہے جو ہمارے ملک میں ہی فوج کے کام کاج سے پیدا ہوئے اور پھر اتنی مقبول ہوئی کہ اردو بر صغیر کی زبان بن گئی۔ اردو زبان کی سرپرستی سلاطین نے کی لیکن مسلم سلاطین کا دور ختم ہونے کے بعد اردو کی ترقی و ترویج کی ذمہ داری علماء اکرام' مشائخین عظام اور خانقاہوں نے لے لی۔ جدو جہد آزادی میں اردو نے کلیدی کردار ادا کیا لیکن مابعد آزادی حکومتوں نے اردو کے ساتھ سوتیلا رویہ اختیار کیا' ہر سطح پر نظر انداز کیا اور اردو سرکاری سرپرستی کے بغیر ہی زندہ ہے اور آئندہ بھی رہیگی۔ قران و حدیث کے تراجم و شرح اور اسلامی لٹریچر اردو میں لکھنے علماء اکرم نے بڑی عرق ریزی کی ہے لیکن آج اردو سے دوری کے سبب ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں۔ دینی مدارس نے اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے انعام و اکرام' عہدہ و رتبہ کے لالچ کے بغیر بے لوث خدمات انجام دی۔ تعلیمی ادارہ جات نے حالات کی مناسبت سے خود کو تبدیل کیا ذریعہ تعلیم کو اردو سے انگریزی یا علاقائی زبان میں تبدیل کیا لیکن دینی مدارس نے اپنا مزاج نہیں بدلا اور اپنا ذریعہ تعلیم اردو ہی برقرار رکھا جبکہ انگریزی اور دیگر دنیاوی تعلیم کے مضامین کو اضافی مضمون کے طور پر اختیار کیا ہے۔ آج نہ صرف ہندوستان بلکہ امریکہ' اسٹریلیا' نیو زی لینڈ' کیناڈا' برطانیہ' افریقہ یعنی دنیا کے ہر مقام پر دینی مدارس میں اردو میں ہی تعلیم دی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے سات بڑے دینی جامعات میں اردو پڑھا ئی جاتی ہے۔ دینی مدارس سے فارغ علماء اکرام نے شعر و ادب کی تاریخ میں انمٹ نقوش ثبت کئے ہیں۔ انھوں نے اردو صحافت کے دو سو سال اور روزنامہ سیاست کے 75 سال مکمل ہونے پر اردو صحافت کو مبارکباد دی اور کہا کہ اردو کی دو سو سالہ صحافت میں دکن کی اردو صحافت کا کردار علم بردار کی مانند ہے۔ ایم اے قادر فیصل جرنلسٹ نے ادارہ روزنامہ سیاست کی ملی سماجی اور صحافتی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ مولانا مفتی سید نعمان نے مدرسہ عربیہ نعمانیہ سنگاریڈی کی کارکردگی اور سرگرمیوں پر مبنی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر جناب ریاض احمد سینئر صحافی' جناب ایم اے نعیم وجاہت سینئر صحافی' خیرالدین جانی' ایم اے خالق حسینی' مسعود امتیاز احمد خان' حافظ شیخ عارف' عبدالرحمن اکمل جرنلسٹس سنگاریڈی' جناب ایم اے وحید صدر ملی فورم کے علاوہ معزیزین شہر کے علاوہ طلباء اور اساتذہ موجود تھے۔ مدرسہ عربیہ نعمانیہ کی جانب سے جناب عامر علی خان کو تہنیت ہیش کی گئی اور مہمانان کا گلپوشی کرتے ہوے خیر مقدم کیا گیا۔ حافظ محمد واجد نے جناب عامر علی خان سے ملاقات کرتے ہوے گلپوشی کی۔