تلنگانہ جذبہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش، حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر مباحث کا چیلنج
حیدرآباد ۔ 28۔نومبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر نے سیاسی فائدہ کیلئے تلنگانہ جذبہ کا استحصال کیا۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کے لئے کے سی آر کی بھوک ہڑتال محض ایک ڈرامہ تھا ۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ سیاسی فائدے کیلئے تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے تلنگانہ جذبہ کا استحصال کیا۔ انہوں نے کہا کہ 29 نومبر کو دکھشا دیوس کے نام پر بی آر ایس پھر ایک مرتبہ تلنگانہ جذبہ کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کر نا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی بھوک ہڑتال ڈرامہ کے سوا کچھ نہیں تھی۔ کے سی آر نے محض تین دنوں میں اپنی بھوک ہڑتال کو ختم کردیا تھا ۔ طلبہ تنظیموں نے بھوک ہڑتال اچانک ختم کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ صرف کے سی آر کے نتیجہ میں تلنگانہ حاصل نہیں ہوا بلکہ کانگریس نے تلنگانہ کی تشکیل میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پوٹی سری راملو اور کے سی آر بھوک ہڑتال میں کوئی یکسانیت نہیں ہے ۔ علحدہ تلنگانہ تحریک میں تمام طبقات نے حصہ لیا اور ریاست کی تشکیل کا سہرا تلنگانہ عوام کے سر جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست کی تشکیل کے وعدہ کی تکمیل کی ہے ۔ بی آر ایس کی جانب سے دکھشا دیوس کے اہتمام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد میں طلبہ اور نوجوانوں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اعتماد سے محروم بی آر ایس دکھشا دیوس کے نام پر نیا ڈرامہ کر رہی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کانگریس حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو یقین ہوچکا ہے کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کا وجود باقی نہیں ہے۔ 10 سالہ اقتدار میں صرف کے سی آر کے افراد خاندان کو فائدہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ جوبلی ہلز کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کو شکست دینے کیلئے بی آر ایس اور بی جے پی نے خفیہ مفاہمت کرلی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کئی ارکان اسمبلی کو ضلع کانگریس صدور کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ نلگنڈہ ضلع کانگریس صدر کیلاش نائک کی جانب سے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی خاندان پر تنقید کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کیلاش نائک کا ویڈیو تین سال پرانا ہے اور انہوں نے اس سلسلہ میں معذرت خواہی کرلی ہے۔ کیلاش نائک کے بیان کی پارٹی تائید نہیں کرتی۔1