اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کا حکومت مخالف مارچ روکنے کے لیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی درخواست غیر مؤثر قرار دے دی ہے۔اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کو سینیٹر کامران مرتضیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ انتظامیہ کے پاس صورتِ حال کنٹرول کرنے کے وسیع اختیارات ہیں تو عدالت مداخلت کیوں کرے؟ کیا درخواست گزار یہ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ مارچ کنٹرول نہیں کر سکتی؟سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ بات بہت آگے جا چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے مارچ پر فائرنگ سے ایک شخص کی جان جا چکی ہے اور اس مارچ سے معمولاتِ زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دو ہفتے سے عمران خان کا مارچ شروع ہے اور فواد چوہدری کے مطابق جمعہ یا ہفتے کو مارچ اسلام آباد پہنچے گا۔درخواست گزار نے کہا کہ مارچ کرنا تحریکِ انصاف کا حق ہے لیکن اس سے عام آدمی کے حقوق متاثر نہیں ہونا چاہئیں۔اس موقع پر جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے احتجاج کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار بنایا ہے؟چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہا کہ آپ نے درخواست میں ماضی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے لیکن مارچ سیاسی مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے مسائل میں مداخلت سے عدالت کے لیے عجیب صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔بنچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ ایک سینیٹر ہیں تو پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔جس پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وہ ذاتی حیثیت میں عدالت آئے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیسے مان لیں کہ آپ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور ذاتی حیثیت میں آئے ہیں۔ آپ چاہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ ڈپٹی کمشنر کا کردار ادا کرے؟کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ انتظامیہ صورتِ حال کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بظاہر مارچ کے معاملے میں عدالت کی مداخلت قبل از وقت ہوگی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو روات میں جلسے کا کہا تھا اور ایک بیانِ حلفی مانگا تھا جو اب تک نہیں دیا گیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق پی ٹی آئی کے جلسے کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے۔