کشمیر کو ریاستی درجہ کی بحالی تک وزارت میں شامل نہ ہونے کانگریس کا اعلان
سرینگر: نیشنل کانفرنس کے قائدعمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے چیف منسٹر کی حیثیت سے آج سری نگر میں شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سنٹر میں حلف لیا۔ اسی کے ساتھ سریندر سنگھ چودھری کو یونین ٹیریٹری (یو ٹی) کے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف دلایا گیا۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کی جس کے بعد عمر عبداللہ کو چیف منسٹرٰ نامزد کیا گیا۔حلف برداری تقریب میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور پی ڈی پی کی سربراہ اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کئی اہم سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما ڈی راجہ نے عمر عبداللہ کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ سریندر سنگھ چودھری کو ڈپٹی چیف منسٹرمقرر کیا گیا ہے جنہوں نے بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر رینہ کو انتخابات میں شکست دی تھی۔نیشنل کانفرنس کے صدر اور عمر کے والد فاروق عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ عوام نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور اپنے ووٹ سے ثابت کیا ہے کہ وہ 5 اگست کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔عمر عبداللہ نے حلف برداری کے بعد کہا کہ وہ جموں و کشمیر کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں گے اور حکومتِ ہند کے ساتھ تعاون کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ریاست کی بحالی اور ترقی کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے سربراہ طارق حمید قرہ نے کہا کہ فی الحال کانگریس پارٹی جموں و کشمیر کی حکومت میں وزارت کا حصہ نہیں بن رہی ہے۔ کانگریس نے مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے متعدد عوامی اجلاسوں میں اس کا وعدہ بھی کیا ہے تاہم ریاستی درجہ اب تک بحال نہیں ہوا ہے جس پر ہم ناراض ہیں، اسی لیے ہم اس وقت وزارت میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ خیال رہے کہ یہ انتخابات جموں و کشمیر میں 10 سالوں بعد ہوئے ہیں جس میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اتحاد نے 41 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پی ڈی پی نے 3 نشستیں حاصل کیں۔