اسلام آباد : غداری اور جاسوسی کے الزامات کا سامنا کرنے والے پاکستان فوج کے سابق لیفٹننٹ جنرل جاوید اقبال خود پر عائد الزامات کو غلط ثابت کرنے کی تگ و دو میں لگے ہیں۔لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اقبال کو گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی طرف سے سزا ختم کیے جانے کے بعدجیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن ان کے وکیل کے مطابق جنرل جاوید چاہتے ہیں کہ ان پر عائد تمام الزامات واپس لیے جائیں۔لیفٹننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں خود پر عائد تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت وہ معلومات دینے کا الزام لگایا گیا ہے جو انٹرنیٹ پر موجود ہے ۔