عوامی شعبہ کی کمپنیوں کی جائیدادوں کی فروخت مرکز کا منصوبہ

   

11کنسلٹنسی کمپنیوں کے پیانل کی تشکیل، معاشی بحران سے نمٹنے کے اقدامات
حیدرآباد۔30اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت ہند مرکزی عوامی شعبہ کی جائیدادوں کو فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے 11 کنسلٹنسی کمپنیوں کا پیانل بھی تشکیل دیا جاچکا ہے تاکہ مرکزی عوامی شعبہ کی کمپنیوں کی زمینات کی فروخت کے ذریعہ دولت حاصل کی جاسکے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مرکزی وزارت فینانس کی جانب سے تمام عوامی شعبہ کی مرکزی کمپنیوں کی جائیدادوں کی تفصیلات بالخصوص اراضیات کی تفصیلات طلب کی جا چکی ہیں اور مختلف کمپنیوں کی جانب سے یہ تفصیلات محکمہ فینانس کو روانہ کی جانے لگی ہیں تاکہ مرکزی حکومت اس سلسلہ میں مزید اقدامات کو یقینی بنا سکے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ سرمایاکاری و منتظم عوامی اثاثہ جات کی جانب سے 11 کنسلٹنسی کا انتخاب کرتے ہوئے رپورٹ تیار کروائی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک میں 6.50کروڑ شئیر 996کمپنیوں میں موجودہیں جو کہ 20ہزار 323 شئیر ہولڈرس کے ہیں اور یہ محکمہ وزارت داخلہ کے پاس محفوظ ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان شئیرس کی فروخت کے ذریعہ 1لاکھ 5ہزار کروڑ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کے فیصلہ سے حکومت پر جو 1لاکھ 25ہزار کروڑ کا بوجھ عائد ہوا ہے اس کو دور کیاجاسکے۔ ملک میں جاری معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت کی جانب سے اختیار کی جانے والی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ حکومت اب تک اداروں کی جانب سے جمع کردہ اثاثہ جات کی فروخت کے ذریعہ ملک کی معیشت کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور وزیر اعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق آئندہ کابینہ کے اجلاس میں مرکزی کمپنیوں کو خانگیانے یا خانگی سرمایہ کاری کی حد میں اضافہ کے سلسلہ میں بھی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مرکزی عوامی شعبہ کی کمپنیوں کے پاس موجود جائیدادوں کے علاوہ کے دیگر جائیدادوں پر نگاہیں مرکوز کی جا رہی ہیں تاکہ جائیداد رکھنے کی حد بھی مقرر کرنے میں حکومت کو آسانی ہوسکے۔