عوامی مرکز صحت پر ادویات کی عدم فراہمی، مختلف مراکز سے شکایات وصول

   

حیدرآباد۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے گھروں میں قرنطینہ اور ادویات کی فراہمی کے علاوہ آئسولیشن کٹس کی اجرائی اور ہیلپ لائن کے ذریعہ ڈاکٹرس سے رابطہ اور تجاویز کی فراہمی کے اقدامات کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن ریاست تلنگانہ کی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کس حد تک صداقت پر مبنی ہیں اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ ریاست کے دارالحکومت میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کنٹینمنٹ زون کے قیام کی طرح ہی ریاست میں آئسولیشن کٹس اور ادویات کی تقسیم عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ادویات کی عدم فراہمی کی ایک شکایت آج سامنے آئی جس میں پاٹی گڈہ میں واقع عوامی مرکز صحت سے رجوع ہوتے ہوئے ایک شخص نے اپنی بیوی کیلئے ادویات طلب کئے جس پر عوامی مرکز صحت کے عہدیدارو ںنے ادویات کی اجرائی سے انکار کردیا اور کہا کہ جن کا معائنہ اس مرکز پر کیاجاتا ہے اور مریض کو کورونا وائرس کی توثیق ہوتی ہے توایسی صورت میں ہی ادویات جاری کئے جاتے ہیں جبکہ ڈاکٹر س سے رجوع ہونے والے شخص نے بتایا کہ عوامی مرکز صحت پر کورونا وائرس کے معائنہ میں ہونے والی تاخیر کے سبب اس شخص نے اپنی بیوی کا معائنہ خانگی لیباریٹری میں کروایا ہے جہاں سے آرٹی پی سی آر میں کورونا وائرس کی توثیق ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے اس مرکز میں کسی قسم کی کوئی ادویات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جا رہی ہے اور پازیٹیو رپورٹ کے ساتھ اس مرکز سے رجوع ہونے والے شخص کو یہ کہہ دیا گیا کہ جہاں معائنہ کروایا گیا ہے وہیں سے ادویات بھی حاصل کئے جائیں جس پر اس شخص نے بتایا کہ وہاں آئسولیشن کٹ 3500 ہزار کی فروخت کی جا رہی ہے اور اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ خانگی آئسولیشن کٹ خرید سکے اس کے باوجود سرکاری مرکز سے اس شخص کو مایوس لوٹا دیا ہے اور کہا گیا کہ محکمہ صحت کی جانب سے اس کی کوئی مدد نہیں کی جاسکتی اس طرح کے کئی واقعات کی شکایات منظر عام پر آرہی ہیں جبکہ ریاستی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے کئی ایک دعوے کئے جا رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تما م کورونا وائر س کے مریضوں کو بہتر علاج کی فراہمی کے علاوہ انہیں مفت ادوایات کی تقسیم کے ساتھ ڈاکٹرس کے آن لائن تشخیص و معائنوں کے اقدامات کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں شہر حیدرآباد کے علاوہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے کئی مریضوں نے اس بات کی شکایت کی کہ انہیں کورونا وائرس کی توثیق کے باوجود کوئی ادویات کی کٹ نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں کسی ڈاکٹرس یا ہیلپ لائن کی جانب سے کوئی کال موصول ہوئی جبکہ گذشتہ برس کورونا وائرس کی توثیق کے فوری بعد محکمہ صحت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد حرکت میں آتے ہوئے مرض کو مزید پھیلنے سے روکنے کے علاوہ مریض کے بہتر علاج کی سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کر رہا تھا لیکن اب صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔