اردو یونیورسٹی میں یونیسیف کے اشتراک سے صحت اور تعلیم پر شعور بیداری پروگرام کا افتتاح
حیدرآباد، 23؍ اکتوبر (پریس نوٹ) سماجی تبدیلی کی حامل قیادت کا کام دراصل عوام کے اندازِ فکر میں تبدیلی لانا ہے۔ کمیونٹی کے قائدین ٹیکہ اندازی، لڑکیوں کی تعلیم اور عمومی صحت سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کا کام کریں۔ ان خیالات کا اظہار بچوں کی بہبود سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ادارے یونیسیف کے قومی سربراہ (ترسیل برائے ترقی) جناب سدارتھ سریشٹھ، نے آج مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی (مانو) میں کیا۔ جناب سدارتھ اور ان کے ہمراہ یونیسیف کا وفد ، مانو کے ساتھ مشترکہ پراجیکٹ ’’قیادت برائے سماجی تبدیلی‘‘ کے تحت شعور بیداری مہم کے یونیورسٹی میں افتتاح کے موقع پر آج مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی رہنماؤں سے خطاب کر رہے تھے۔پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار انچارج نے تقریب کی صدارت کی اور اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے یونیسف کے عہدیداروں کا اس منصوبے کے لئے مانو کے انتخاب پر شکریہ ادا کیا۔پروجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر محمد فریاد کے مطابق ، یہ منصوبہ حیدرآباد کے منتخب بلدی وارڈوں میں ایک تجرباتی پراجیکٹ پر مشتمل ہے جسے تلنگانہ ،
آندھراپردیش اور کرناٹک تک وسعت دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’ہم معاشرے میں صحت سے متعلق شعور بیداری مہم کے لئے علماء اور رہنماؤں سے مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند ، تلنگانہ کے امیر مولانا حامد محمد خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں صحت و صفائی کے مسائل کے دو پہلو ہیں۔ ایک طرف عوامی بیداری کا فقدان ہے اور دوسری طرف انتظامیہ کا متعصبانہ رویہ۔ انہوں نے مذہبی رہنماؤں اور ائمہ مساجد پر زور دیا کہ وہ صحت اور حفظان صحت سے متعلق آگہی کے لئے خطبۂ جمعہ کے پلیٹ فارم کا استعمال کریں۔ یونیسیف سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سنجیو نے بتایا کہ صحت اور طبی نگہداشت دو مختلف چیزیں ہیں ۔ اکثر صحت کو طبی نگہداشت مان کر لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف بیک وقت ماں اور بچے دونوں کی صحت کے بارے میں شعور بیداری کرنا چاہتا ہے۔ اس موقع پر مفتی ضیاء الدین نقشبندی اور مولانا حسام الدین عاقل ثانی جعفر پاشاہ نے بھی صحت اور حفظان صحت کے بارے میں اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔