محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ وقف بورڈ کی لاپرواہی آشکار
حیدرآباد۔4مئی(سیاست نیوز) شہر میں عید الفطر کے سب سے بڑے اجتماع عید گاہ میر عالم میں بہتر انتظامات کو یقینی بنانے میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار بری طرح سے ناکام ہوگئے اور عوام نے عیدگاہ میر عالم میں کئے گئے ناقص انتظامات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ دو سال بعدعید الفطر کے اجتماعات کے انعقاد کی اجازت حاصل ہوئی اور دو سال بعد بھی چند گھنٹوں کے لئے بہتر انتظامات نہ کئے جانے پر عوام میں برہمی پائی گئی ۔ عید گاہ کے اندرونی حصہ کے علاوہ بیرونی حصہ میں بھی نا مناسب سائباں اور شامیانوں کی تنصیب کے کے علاوہ مائک کے بہترانتظامات نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ریاستی حکومت اور تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے عیدین سے قبل عیدگاہ کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیا جاتا تھا اور محکمہ بلدیہ‘ آبرسانی ‘ برقی ‘ محکمہ اقلیتی بہبود‘ محکمہ روڈ اینڈ بلڈنگ‘ محکمہ پولیس کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیدارو ںکے ساتھ عیدگاہ میر عالم اور عیدگاہ مادننا پیٹ کا دورہ کرتے ہوئے خصوصی ہدایات جاری کی جاتی تھیں لیکن اس مرتبہ نماز عید الفطر کا اجتماع دو سال کے بعد منعقد کیا جا رہا تھا اس کے باوجود کوئی انتظامات نہیں کئے گئے اور نہ ہی کسی عہدیدار یا حکومت کے نمائندے کی جانب سے عیدگاہوں کا دورہ کرنے کی زحمت گوارہ کی گئی ۔ نماز عیدکے لئے پہنچنے والوں کی رہنمائی کے لئے کوئی مناسب انتظامات نہیں کئے گئے تھے اور نہ ہی پارکنگ کی سہولت کی کسی مقام پر نشاندہی کی گئی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے بے اعتنائی کے ساتھ انتظامات کئے گئے تھے۔ عید گاہ میر عالم کے علاوہ عیدگاہ مادننا پیٹ کے اطراف و اکناف بھی کوئی خصوصی انتظامات نہیں کئے گئے جبکہ جن مقامات پر خانگی کمیٹیوں کی جانب سے نماز عید کے انتظامات کئے گئے تھے وہاں کافی بہتر انتظامات دیکھے گئے اوردو سال بعد عید الفطر کے انتظامات کئے جانے کے باعث منتظمین کی جانب سے جوش وخروش کے ساتھ معیاری انتظامات کو یقینی بنایا گیا ۔عیدگاہ میر عالم کے اطراف و اکناف میں پینے کے پانی کے انتظامات کئے جاتے تھے لیکن اس مرتبہ عیدگاہ اندرونی حصہ میں ہی پانی کے اسٹال لگائے گئے تھے لیکن شدید دھوپ اور گرمی کے سبب مصلیان اکرام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا اس کے باوجود ان کے لئے کوئی بہتر انتظامات نہیںکئے گئے تھے اور شکایت کے لئے کوئی عہدیدار موجود نہیں تھے۔م