عیسائیوں کیخلاف بی جے پی ایم پی کے ریمارکس پر تنازعہ

   

ستیہ پال نے کہا کہ مقتول اسٹینس کی آرگنائزیشن مذہب تبدیل کرارہی تھی
نئی دہلی : اڈیشہ میں تقریباً 21 سال قبل آسٹریلیائی مشینر گراہم اسٹورٹ اسٹینس کی بے رحمانہ ہلاکت کا زخم ہرا کرتے ہوئے بی جے پی ایم پی نے ہندوستانی عیسائیوں کیخلاف نیا تنازعہ چھیڑ دیا ہے ۔ ہندو ایم پی نے دعویٰ کیا کہ مقتول آسٹریلیائی شہری تبدیلی مذہب کی سرگرمی میں مشغول تھا اور قبائیلی لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا کرتا تھا ۔ بی جے پی ایم پی ستیہ پال سنگھ پارلیمنٹ میں بیرونی عطیوں کے قواعد سے متعلق ترمیمی بل پر مباحث کے دوران تقریر کررہے تھے ۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اسٹینس کی آرگنائزیشن ’’ ایوانجلسٹ مشینری سوسائیٹی ‘‘ قبائیلی لوگوں کو عیسائیت کی طرف لالچ کے ذریعہ راغب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ گراہم اسٹینس اور اس کے دو بچوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اُس پر بہت ہنگامہ ہوا۔ بلاشبہ وہ غلط ہوا لیکن سی بی آئی ، اڈیشہ کرائم برانچ اور جسٹس ڈی پی وادھوا کمیشن جیسے اداروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قبائیلیوں کو وہاں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا تھا ۔ یہ سب سے بڑی وجہ رہی کہ عوام اسٹینس کے خلاف کافی مشتعل ہوگئے ۔