ٹرمپ کے دورہ ہند کو کامیاب بنانے بی جے پی حکومت سرگرم ، گجرات کے سفر کو اہمیت
احمدآباد۔ 18 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ 24 اور 25 فروری کو ہندوستان کا دورہ کررہے ہیں۔ ریاستوں کے حقوق کی بات کرنے والے نریندر مودی نے ٹرمپ کے دورہ میں حیدرآباد اور بنگلور جیسے ترقی یافتہ خوبصورت شہروں کی بجائے اپنی آبائی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد کو شامل کیا ہے۔ جس طرح گزشتہ سال امریکہ میں ’’ہاؤڈی موڈی‘‘ پروگرام منعقد کیا گیا تھا، اسی طرح احمدآباد میں نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹرمپ کا روڈ شو ہوگا، جہاں تک احمدآباد کا سوال ہے اس شہر کی بنیاد سلطان احمد شاہ نے 26 فروری 1411ء میں ڈالی۔ اس طرح احمدآباد کی بنیاد ڈالے 609 سال کا عرصہ 26 فروری کو مکمل ہوگا۔ سلطان احمد شاہ نے 4 مارچ 1411ء کو احمدآباد کو اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا تھا۔ بہرحال ہم ٹرمپ کے دورۂ احمدآباد کی بات کرتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست احمدآباد میں کافی غریب مقیم ہیں اور وہاں گندی بستیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ مودی جی کی زیرقیادت مرکزی اور بی جے پی کی ریاستی حکومت شہر احمدآباد کو ٹرمپ کے سامنے ایک صاف ستھرے اور ترقی یافتہ خوشحال شہر کی حیثیت سے پیش کرنے کی خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے تحت موئپر اسٹیڈیم کے قریب جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے 45 خاندانوں کو وہاں سے نکل جانے کی نوٹسیں دی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ زائد از 20 برسوں سے یہ لوگ 200 جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ’’کیم چھو ٹرمپ‘‘ پروگرام کیلئے گندی بستیوں کے لئے مکینوں کو بیدخلی کی نوٹس دی گئی ہے اور اندرون 7 یوم بیدخل ہوجانے کیلئے کہا گیا ہے۔ جبکہ آج مہلت کا آخری دن ہے۔ ریاستی حکام دوسری جانب دعویٰ کررہے ہیں کہ ٹرمپ کا خطاب سننے کیلئے 1.25 لاکھ افراد سردار پٹیل اسٹیڈیم آئیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انسداد غربت کے ٹھوس اقدامات کرنے کی بجائے کئی کلومیٹر طویل دیوار سے گندی بستیوں کو چھپایا گیا ہے۔ بہرحال مودی جی اور حکومت گجرات غربت اور گندی بستیوں کو ٹرمپ کی نظروں سے چھپانے کیلئے دیواروں کا سہارا لے رہی ہے لیکن ٹرمپ اور ان کا انتظامیہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں پچھلے 6 برسوں کے دوران انسانی حقوق کو کس طرح پامال کیا گیا اور خود مودی کے دور چیف منسٹری میں گجرات میں فرقہ پرستوں نے کس طرح اقلیتوں کا قتل عام کیا تھا۔