قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات جاری‘ سلامتی کونسل میں سلووینیا کے نمائندہ کا انٹرویو
ریاض : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سلووینیا کے نمائندے سموئیل زبوگر نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس دونوں امریکی صدر جو بائیڈن کے امن منصوبے سے مطمئن نہیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ ’یہ ڈیل اچھی ہے۔سموئیل زبوگر نے یہ بات عرب نیوز کے پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘ میں گفتگو کے دوران کہی ہے۔رواں ماہ 10 جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی تھی جو غزہ جنگ کے خاتمے کی تجویز پر مبنی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے ترامیم کے بغیر اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا تھا جبکہ اسرائیل نے بھی اسے مسترد کر دیا تھا۔سموئیل زبوگر نے کہا کہ میں ابھی تک بائیڈن پلان کو چھوڑنے کی بات نہیں کر رہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی تک قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ اس منصوبے کے لیے امریکہ کو اپنی اتھارٹی کو بروئے کار لانا ہو گا تاکہ ہم اس پر عمل درآمد کی امید کر سکیں۔ ہم امن کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ حماس کی عسکری اور حکومتی صلاحتیوں کو تباہ کیے بغیر جنگ بندی پر تیار نہیں تاہم سموئیل زبوگر کا کہنا ہے کہ فریقین کو سمجھوتے کی جانب بڑھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں مسائل دونوں طرف ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ امن منصوبے کو مسترد کرنے کا معاملہ کسی ایک جانب سے ہے۔ دونوں طرف کے لوگ اس منصوبے سے مطمئن نہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک اچھی ڈیل ہے۔میں بہت پرامید ہوں کہ یہ ڈیل عمل درآمد کی صورت میں غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں اور ان کی مشکلات کو ختم کر سکتی ہے۔کیا سکیورٹی کونسل غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کے لیے اس پر دباؤ ڈال سکتی ہے؟ فرینکلی سپیکنگ کی میزبان کیٹی جینسن کے اس سوال کے جواب میں سموئیل زبوگر نے کہا کہ صرف ایک متفقہ موقف ہی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔میرے خیال میں سکیورٹی کونسل سب سے مؤثر پلیٹ فارم ہے لیکن یہ سب اس وقت ہی مؤثر ہو سکتا جب تمام ارکان متفق ہوں۔ اگر ہمارے پاس (اس امن منصوبے کے حق میں) 15 ووٹ ہوں تو یہ اسرائیل اور حماس کے لیے ٹھوس پیغام ہو سکتا ہے۔
لیکن اس سے پہلے کی ایک قرارداد میں روس پیچھے ہٹ گیا تھا جبکہ کچھ عرصہ قبل ایک قرارداد سے امریکہ نے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اس سے ایک پیغام یہی ملتا ہے کہ چال چلنے کا موقع کہیں نہ کہیں اب بھی موجود ہے۔ سموئیل زبوگر نے کہا کہ غزہ میں محصور افراد کی مدد کرنے کے لیے سازگار حالات لڑائی رکنے کی صورت میں ہی پیدا ہو سکتے ہیں۔ وہاں انسانی امداد کا عمل جنگ بندی سے کم کسی بھی چیز سے شروع نہیں ہو سکتا۔