غزہ دنیا کی سب سے بڑی اوپن ایئر جیل

   

غزہ : مغرب میں بحیرہ روم، شمال اور مشرق میں اسرائیل اور جنوب میں مصر کے درمیان زمین کی ایک پٹی، غزہ 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کا گھر ہے۔ یہ 1967 سے فوجی قبضے میں ہے اور اگرچہ اسرائیل کا موقف ہے کہ اس نے 2005 میں انخلاء کیا۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں اب بھی غزہ کو مقبوضہ علاقہ تصور کرتی ہیں۔7/اکتوبر کوحماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے اسرائیل پر دہائیوں میں سب سے بڑا حملہ شروع کرنے کے بعد ملک کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے غزہ پٹی کا ،مکمل محاصرہ، کرنے کا حکم دیا اور بجلی کھانا، پانی اور ایندھن سب کچھ مکمل طور پر بند کردیا ۔ اسرائیل غزہ پر ایسی شرائط عائد کرنے کے قابل ہے کیونکہ فلسطینی انکلیو 2007 سے فضائی زمینی اور سمندری ناکہ بندی کے تحت ہے۔ قبضے اور ناکہ بندی کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات نے اقوام متحدہ کے ماہرین، دانشوروں ،ہیومن رائٹس اور یہاں تک کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت بہت سے لوگوں کو غزہ کو ،اوپن ایئر جیل، کے طور پر حوالے کرنے پر مجبور کیا ہے۔1967 کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے مصر سے غزہ پر قبضہ کرکے اس علاقے پر اپنا فوجی قبضہ شروع کر دیا۔ 1967 اور 2005 کے درمیان اسرائیل نے غزہ میں 21 بستیاں تعمیر کیں اور فلسطینی باشندوں کو زبردستی اقدامات کے ساتھ ساتھ مالی اور دیگر مراعات دے کر علاقہ چھوڑنے پر زور دیا۔ تاہم، اس دور میں اسرائیلی قبضے کے خلاف پرتشدد اور غیر متشدد دونوں طرح سے فلسطینی مزاحمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2005 میں اسرائیل نے غزہ سے اپنی بستیاں واپس لے لیں۔ اس کے بعد اور 2007 کے درمیان، اس نے متعدد مواقع پر غزہ کے اندر اور باہر لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت پر عارضی پابندیاں عائد کیں۔ 1993 کے اوسلو معاہدے کے تحت اسرائیل کے انخلاء کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو غزہ پر انتظامی کنٹرول حاصل ہوااور 2006 میں ایک الیکشن منعقد ہوا۔ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیلی ناکہ بندی نافذ تھی، اور عسکریت پسند گروپ حماس نے اکثریت حاصل کی۔

اسرائیلی حملے قتل عام میں بدل چکے ہیں: اردغان
انقرہ : صدر رجب طیب اردغان نے پاپائے روم فرانسس سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔ بات چیت میں اسرائیل فلسطین کشیدگی اور علاقے کی بگڑتی صورتحال سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر غور کیا گیا۔ایردوان نے پاپائے روم سے بات چیت میں کہا کہ اسرائیل کے غزہ پر حملے قتل عام میں بدل چکے ہیں۔