شہری کھانے اورپانی کوترس رہے ہیں ‘ڈبلیو ایچ او سربراہ کا بیان
جینوا : اسرائیل اور حماس جنگ کے درمیان ڈبلیو ایچ او یعنی عالمی ادارہ صحت نے ایک بڑا انکشاف کیاہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈنام گیبریئس نے کل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں اوسطاً ہر 10 منٹ میں ایک بچے کی موت ہورہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ کے کسی بھی علاقے میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے مزید کہا کہ غزہ کے 36 ہاسپٹلس میں سے نصف اور اس کے بنیادی مراکز صحت کا دو تہائی کام نہیں کر رہے ہیں اور جو کام کر رہے ہیں وہ اپنی صلاحیت سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ہزاروں بے گھر افراد ہاسپٹلس میں پناہ لے رہے ہیں۔ ان کے خاندان پرہجوم اسکولوں میں پھنسے ہوئے ہیں، کھانے اور پانی کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ غزہ میں اب تک11ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے اسپتالوں کے نیچے سرنگوں میں ہتھیار چھپا رکھے ہیں جب کہ حماس ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاد اردان نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اسرائیل نے جنوبی غزہ میں ایک ہاسپٹل کے قیام کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ اردن نے کہا کہ اسرائیل یو اے ای، آئی سی آر سی اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ فیلڈ اسپتال اور تیرتے ہوئے اسپتال کے جہازوں کے قیام کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل نے اجلاس کے آغاز میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (UNRWA) کے ساتھ کام کرنے والے 101 افراد کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور غزہ میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی یاد میں چند لمحوں کے لیے خاموشی اختیار کی۔