غزہ پر او آئی سی کا اجلاس، مسلم ممالک اسرائیل سے خائف ؟

,

   

صیہونی مملکت کو دھمکی دینے سے تک گریز ،اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کی اپیل پراکتفا

جدہ: غزہ کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ایک اہم اجلاس آج منعقد ہوا۔ او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی بربریت روکنے کے لائحہ عمل پر غور ہوا۔ اجلاس میں ایران نے غزہ ہاسپٹل پر حملے کے بعد مسلم ممالک سے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی اپیل کی۔ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے ارکان کو اسرائیل پر تیل کی بندش سمیت دیگر پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اسرائیلی سفیروں کو ملک بدر کردینا چاہیے۔ وہیں پاکستانی رہنما نے اسرائیل فلسطین جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔وہیں ترکیہ کے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ترکیہ امن مذکرات کرانے کیلئے تیار ہے۔ 1967 کی سرحدوں کے مطابق دو ریاستی حل سے لڑائی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ممکن ہے۔ فلسطینی وزیرداخلہ ریاض المالکی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کی قتل و غارت گری سے انسانیت لرز اٹھی ہے، ہاسپٹل پر حملہ اور خواتین وبچوں کا قتل جانا بوجھا جرم ہے۔ ریاض المالکی نے کہا کہ جو اسرائیل کو سپورٹ کرتے ہیں وہ سب ذمہ دار ہیں، ان لوگوں کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین کا پرامن اور منصفانہ حل چاہتا ہے۔ شہزادہ فیصل نے کہا کہ فلسطین میں انسانیت سوز جارحیت جاری ہے، اسرائیلی فورسز فلسطینیوں پر بدترین مظالم کر رہی ہیں، غزہ کی سنگین صورتحال سے دوچار ہے، غزہ میں فوری جنگ بندی کا اعلان کیا جائے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرکے ان کیلئے امداد فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔اجلاس کے اختتام پر ایگزیکٹو کمیٹی نے غزہ کی صورتحال پر امت مسلمہ کے اجتماعی موقف کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا۔