غزہ۔ 14 نومبر (یو این آئی) فلسطینی کارکنان نے تھوڑا تھوڑا کر کے غزہ شہر میں قرونِ وسطیٰ کے ایک سابق قلعے کی باقیات سے ریت اور گرتے ہوئے مسالے کو صاف کیا جسے اسرائیلی بمباری سے نقصان پہنچا تھا۔ کارکنان کے لیے مخصوص ہلکے سبز رنگ کی جیکٹس میں ملبوس ایک درجن افراد نے پاشا محل عجائب گھر کی بمباری سے متأثرہ اور باقی ماندہ عمارات کی کھدائی اور ملبہ ہٹانے کے لیے ہاتھ سے کام کیا — جہاں ایک بار غزہ میں ایک رات کے قیام کے دوران نپولین بوناپارٹ کی بھی رہائش رہی — انہوں نے دوبارہ استعمال کرنے کے لیے پتھروں کا ایک ڈھیر لگا دیا اور دوسرا ڈھیر بیکار ملبے کا۔ سر پر اڑتے ہوئے ایک اسرائیلی نگران ڈرون کی آواز آئی جبکہ ٹیم خاموشی سے کام کر رہی تھی۔ پاشا محل عجائب گھر غزہ شہر پر حالیہ جنگ کے دوران تباہ ہونے والے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے ، بحالی کے کاموں کے انچارج اور ثقافتی ورثے کے ماہر حمودۃ الدحدار نے اے ایف پی کو بتایا اور مزید کہا کہ محل کی 70 فیصد سے زیادہ عمارات تباہ شدہ تھیں۔ اکتوبر 2025 تک اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ثقافتی ورثہ یونیسکو نے سات اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے 114 مقامات بشمول پاشا محل میں ہونے والے نقصانات کی نشاندہی کی ہے ۔ دیگر تباہ شدہ مقامات میں شرقِ اوسط کی ایک قدیم ترین عیسائی خانقاہ ۔ سینٹ ہلاریون خانقاہ کمپلیکس اور غزہ شہر کی عمری مسجد شامل ہیں۔ اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر منافع بخش تنظیم سینٹر فار کلچرل ہیریٹیج پرزرویشن کے ڈائریکٹر عصام جوہا نے کہا کہ اصل مسئلہ غزہ میں اشیاء کی ترسیل ہے ۔ جوہا نے اے ایف پی کو بتایا، “اور کوئی اشیاء نہیں ہیں اور ہم صرف ملبہ صاف کرنے کا کام، پتھروں کو جمع اور ان کی چھانٹی کر رہے ہیں اور مضبوطی کیلئے کم از کم مداخلت کر رہے ہیں۔ جوہا نے کہا، جنگ بندی سے کارکنان کو کھدائی دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملا۔ قبل ازیں ان کے لیے کام کرنا غیر محفوظ تھا اور “لوگوں کو ڈرونز سے خطرہ تھا جو جگہ کو سکین کرتے اور وہاں گولیاں چلاتے تھے ۔ جوہا نے کہا کہ جنگ کے دوران کم از کم 226 ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچا۔ ان کی بیان کردہ تعداد یونیسکو سے زیادہ ہے کیونکہ غزہ میں ان کی ٹیمیں مزید علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب تھیں۔ انہوں نے کہا، ان کی تنظیم رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ نوادرات سے منسلک ہے ۔ ہمارا ثقافتی ورثہ فلسطینی عوام کی شناخت اور یاد ہے ۔
جنگ سے پہلے پاشا محل میں 17,000 سے زیادہ نوادرات موجود تھے لیکن بدقسمتی سے یہ سب غزہ کے قدیم شہر پر حملے کے بعد غائب ہو گئے ۔دحدار نے غزہ شہر میں کہا۔