جی ایچ ایم سی حدود میں غیرمجاز تعمیرات کا سلسلہ زوروشور سے جاری
حیدرآباد ۔ 18 ڈسمبر (سیاست نیوز) قوانین پر عمل آوری کرنے والے جب قوانین کو اپنے حق میں استعمال کرنے لگیں اور اس کی آڑ میں چاندی بنانے لگیں تو پھر سسٹم کا کوئی پرسان حال نہیں رہے گا اور قوانین برائے نام قانون ہی رہ جائے گا۔ ان دنوں قوانین کو اپنے حق میں اور اپنی من مانی استعمال کرنے کے الزامات کا سامنا بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا عملہ کررہا ہے۔ بلدیہ کے تعلق سے کہاوت مشہور ہے کہ ’’بلدیہ کھایا پیا چل دیا‘‘۔ اس روایت کو بلدی عہدیدار بخوبی نبھارہے ہیں۔ غیرمجاز تعمیرات کو بغیرنوٹس کے منہدم کرنے کیلئے ایک قانون تیار کیا گیا۔ بلدی حکام کی مبینہ لاپرواہی اور بدعنوانی کے سبب شہر میں تعمیر کئے جارہے غیرمجاز تعمیرات پر روک لگانے کیلئے ریاستی حکومت نے ایک نیا قانون تیار کیا اور اس کو فوری اثر کے ساتھ عمل میں لایا گیا۔ بلدی حکام اس قانون کو غنمیت جان کر اس کی آڑ میں اپنی من مانی چلارہے ہیں۔ حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ بلڈنگ پر مشین ایروال اینڈ سیلف اسسمنٹ (ٹی ایس بی پاس) ایکٹ میں خصوصیت فراہم کرتے ہوئے ٹاسک فورس ٹیموں کی تشکیل عمل میں لائی۔ ٹاؤن پلاننگ، انجینئرنگ اور پولیس ملازمین پر مشتمل سرکل ٹیمیں تیار کی گئی اور ایک سرکل کی ٹاسک فورس کو دوسرے سرکل میں انہدامی کارروائی کا اختیار دیا گیا اور کس ٹیم کو کونسے سرکل میں کارروائی انجام دینی ہے اس کا فیصلہ زونل کمشنر کے سپرد کیا گیا۔ درحقیقت گراؤنڈ سطح پر معائنہ کرتے ہوئے غیرمجاز تعمیرات کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری نیشنل اکیڈیمی آف کنٹراکٹس (این اے سی) کے انجینئرس کو دی گئی جنہیں آوٹ سورسنگ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ ہر انجینئر کو دو تا تین ڈیویژن مختص کئے گئے۔ بلدی حکام پر الزام ہیکہ وہ ان انجینئرس کو اپنی گرفت میں رکھتے ہوئے غیرمجاز تعمیرات پر کارروائی کرنے کی رپورٹ تیار کرنے میں خلل پیدا کررہے ہیں اور ان آوٹ سورسنگ انجینئرس کی اطلاعات کو اعلیٰ عہدیداروں تک پہنچانے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں غیرمجاز تعمیرات کی نشاندہی کرلی جاتی ہے۔ تاہم اس کے خلاف کارروائی نہیں ہورہی ہے اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود میں غیرمجاز تعمیرات کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہیں۔ ٹاؤن پلاننگ اور انفورسمنٹ شعبوں کے علاوہ ٹاسک فورس ٹیموں پر بھی بدعنوانیوں کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ تاہم دوسری طرف ان الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے اعلیٰ عہدیدار انہدامی کارروائی کے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں غیرمجاز تعمیرات راتوں رات تعمیر ہورہے ہیں۔ع